خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے باجوڑ میں حالیہ آپریشن میں جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کیلئے رقم ایک لاکھ 60 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کرنے کا اعلان کردیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرصدارت باجوڑ کے پارلیمنٹیرینز، قومی مشران اورعمائدین پر مشتمل جرگہ ہوا جس میں جرگے نے وزیراعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کیا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
جرگے میں صوبے میں امن وامان کی صورتحال، ترقیاتی حکمت عملی پر غور و خوص کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے باجوڑ میں حالیہ آپریشن میں جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کیلئے رقم ایک لاکھ 60 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کرنے کا اعلان کیا۔
شرکا کی جانب سے مستقل امن کے قیام بارے تجاویز پیش کی گئیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ صوبے میں امن کے قیام کیلئے قبائلی مشران، عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، 2018 میں قربانیوں کی بدولت ملک میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا۔
ان کا کہنا تھاکہ اب حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، امن و امان کے قیام کا مؤثر طریقہ قبائلی مشران اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی ہے، ہم کسی بھی ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن و امان کیلئے باجوڑ کے عوام اور قبائلی مشران کا کردار قابلِ ستائش ہے، فاٹا انضمام کے وقت 100 ارب روپے سالانہ کا وعدہ کیاگیا تھا، گزشتہ سات سالوں میں صرف 168 ارب روپے دیئے گئے، 532 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں، اے آئی پی کی مد میں وفاقی حکومت فنڈز نہیں دے رہی۔
سہیل آفریدی نے ضم اضلاع میں پولیس میں بھرتیوں کیلئے عمر کی حد بڑھانے اور باجوڑ کے شہدا پیکج پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے امن کے قیام اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرنےوالے قبائلی مشران کو سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا۔
ان کا کہنا تھاکہ ضم اضلاع کیلئے روشن قبائل پیکج میں موجود اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر بنایا جائے گا۔


























Leave a Reply