سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے ریگولیٹری ادارے نے ایک نئی پالیسی متعارف کروائی ہے، جس کے تحت غیر قانونی سموں کے استعمال کو روکنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر، فعال (Active) سم کارڈز کو ایکٹیویشن کے بعد ایک سال تک نہ تو ڈس اون کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اس پوسٹ نے انٹرنیٹ پر متعدد صارفین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ معلومات سچی ہیں یا نہیں۔
یہ معلومات بالکل درست ہیں۔
دعویٰ
25 مئی کو، ایک صارف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اعلان کیا ہے کہ اب فعال سم کارڈز کو ایکٹیویشن کے بعد ایک سال تک نہ تو ڈس اون کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کیا جا سکتا ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا، ” پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق پہلے سم کو 60 دن بعد ڈس اون کیا جا سکتا تھا، تاہم اب اس مدت کو بڑھا کر 365 دن کر دیا گیا ہے، اس اقدام کا مقصد شہریوں کو بار بار سم کارڈ ضائع کرنے یا دوسروں کو منتقل کرنے سے روکنا اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔“
اس آرٹیکل کے شائع ہونے کے وقت تک پوسٹ کو8 ہزار سے زائد دفعہ دیکھا اور 29 مرتبہ لائک کیا گیا۔
اسی طرح کے دعوے فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
حقیقت
یہ دعویٰ بالکل سچ ہے۔ پی ٹی اے نے واقعی سم کارڈز کو ڈس اون کرنے (مالکانہ حقوق سے دستبرداری) کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ہے۔
پی ٹی اےکے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ گورنمنٹ افیئرز ڈویژن، احمد شمیم نے جیو فیکٹ چیک سےٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ صارف سم کارڈ فعال ہونے کی تاریخ سے ایک سال تک اسے ڈس اون نہیں کر سکتے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی نے اپنے آفیشل ایکس اور فیس بک اکاؤنٹس پر ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی سموں کے اجراء اور غیر مجاز رجسٹریشنز کے خلاف تحفظات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے حصے کے طور پر، سم ڈس اون کرنے کی مدت 60 دنوں سے بڑھا کر 365 دن کر دی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق، شہریوں کو پرزور ترغیب دی گئی ہے کہ وہ سم کے اجراء کے لیے بائیومیٹرک تصدیق فراہم کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں، کیونکہ اب کوئی بھی نئی فعال (ایکٹیویٹ) کی گئی سم صرف ایک سال کے بعد ہی ڈس اون کی جا سکے گی۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ (CNIC) پر رجسٹرڈ سم کارڈز کی تعداد باقاعدگی سے چیک کریں۔ صارف cnic.sims.pk پر جا کر یا بغیر ڈیش (dashes) کے اپنا شناختی کارڈ نمبر بذریعہ ایس ایم ایس 668 پر بھیج کر ایسا کر سکتے ہیں۔
ایڈوائزری یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
فیصلہ : یہ دعویٰ بالکل درست ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے سم ڈس اون کرنے کی مدت 60 دنوں سے بڑھا کر 365 دن کر دی ہے۔ نظرثانی شدہ پالیسی کے تحت، نئی فعال (ایکٹیویٹ) کی گئی سموں کو ایکٹیویشن کے بعد ایک سال تک ڈس اون نہیں کیا جا سکتا۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply