چین میں ایک شہر کے رہنے والے اس 19 سالہ غریب طالبعلم کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو روزانہ 10 گھنٹے سے زائد وقت تک کام کرکے تعلیمی اخراجات پورے کرتا ہے۔
صوبہ ہونان کی کاؤنٹی شین ہوانگ سے تعلق رکھنے والا طالبعلم ٹانگ وائی اس صوبے کے صدر مقام Changsha کے ایک کالج میں زیرتعلیم ہے۔
وہ ستمبر 2025 سے کالج میں پڑھ رہا ہے مگر مئی 2026 کے شروع میں اس نے تعطیلات کے دوران اپنے آبائی علاقے سے Changsha کا سفر کیا تاکہ عارضی ملازمت تلاش کرسکے۔
وہ روزانہ 10 گھنٹے سے زائد وقت تک فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کا کام کرکے پیسے جمع کر تا رہا تاکہ ٹیوشن فیس ادا کرسکے۔
اس نوجوان نے بتایا کہ ‘میرے خاندان کی مالی حالت بہت کمزور ہے اور میرا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے، تو میں تعطیلات کے 3 ماہ کے دوران کچھ پیسے جمع کرنا چاہتا ہوں تاکہ مستقبل میں ٹیوشن اور شہر میں رہنے کے اخراجات پورے کرسکوں’۔
جب وہ شہر پہنچا تو اس کے پاس صرف 2 ہزار یوآن تھے جس سے اس نے ایک سوٹ کیس، ایک خیمہ، سلیپنگ پیگ اور کچھ پیڈز خریدے جس کے بعد پیسے ختم ہوگئے۔
مگر جلد اسے فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کی ملازمت مل گئی جبکہ وہ اپنے ساتھ گاؤں سے پالتو کتا بھی لایا تھا جو کام کے دوران بھی اس کے ساتھ ہوتا تھا۔
بوبو نامی یہ کتا ٹانگ وائی کو اس کے دادا نے تحفے کے طور پر اس وقت دیا تھا جب اس کتے کی عمر ایک ماہ سے بھی کم تھی۔
ٹانگ وائی نے بتایا کہ پہلے ہفتے اس نے صرف 200 یوآن کمائے اور بدقسمتی سے آدھی آمدنی ایک گاڑی کے مالک کو دینا پڑی جس کی گاڑی سائیکل سے ٹکرانے سے متاثر ہوئی تھی۔
اس نوجوان نے شروع میں ایک پارک میں خیمہ لگا کر راتیں گزاریں مگر مقامی افراد کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر وہ ایک پل کے نیچے رہنے لگا جہاں اکثر بارش کے باعث اسے مشکلات کا سامنا ہوتا تھا۔
ٹانگ وائی نے بتایا کہ اس کے پاس محض 4 جوڑے ہیں جن میں سے ایک فوڈ ڈیلیوری کمپنی کا یونیفارم بھی شامل ہے۔
ایک رپورٹر نے اس نوجوان کی کہانی کو اخبار میں شائع کیا تو لوگوں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا۔
لوگوں کی جانب سے اس کے لیے رقم عطیہ کی گئی جبکہ روزمرہ کی اشیا بھی دی گئیں۔
ایک کمپنی کی جانب سے نوجوان کو 3 ماہ کے لیے عارضی ملازمت کی پیشکش بھی کی گئی جس کے دوران اسے ایک ہزار یوآن ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔
کمپنی کی جانب سے کھانا اور رہائش کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔
اب وہ نوجوان اس کمپنی کے ایک دفتر میں رہتا ہے اور وہاں کی کینٹین میں کھاتا ہے۔
یہ نوجوان لوگوں کی ہمدردی اور مدد پر ان کا شکر گزار ہے اور مستقبل میں تعلیم مکمل کرکے اس شہر کے لیے کچھ کرنے کا خواہشمند ہے۔


























Leave a Reply