کالا ہرن فلم کے پروڈیوسر نے بالی وڈ اداکار سلمان خان کی جانب سے بھیجے گئے لیگل نوٹس کو کیمرے کے سامنے پھاڑ دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں فلم کا پوسٹر جاری کیا گیا جس میں ایک شخص بندوق کے ساتھ دکھائی دے رہا ہے اور اس کے ہاتھ میں اسی طرز کا بریسلٹ ہے جو عام طور پر سلمان خان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ پوسٹر کے مطابق فلم کا ٹیزر 20 جون کو جاری ہوگا۔
سلمان خان کی جانب سے فلمسازوں کو لیگل نوٹس بھیجا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ فلم کے تمام پوسٹرز اور تشہیری مواد فوری طور پر ہٹائے جائیں۔لیگل نوٹس کے مطابق یہ فلم سلمان خان کے مقدمے سے متاثر ہے، فلم سلمان خان کے شخصی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس سے سلمان خان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور عدالت میں زیر سماعت مقدمے پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی کا کہنا ہےکہ سلمان خان لیگ نوٹس کے ذریعے انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس نوٹس کا مقصد یہ ہےکہ لوگ ان کی شہرت اور اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہو جائیں۔
بعد ازاں امیت جانی نے دعویٰ کیا کہ فلم کے اعلان کے بعد سے انہیں سلمان خان کے مداحوں اور ایک مبینہ ڈی کمپنی کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر حالیہ ویڈیو بیان میں امیت جانی نے کیمرے کے سامنے لیگل نوٹس پھاڑ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اس نوٹس کا کیا جواب دوں؟ یہ رہا آپ کے نوٹس کا جواب، اور انہوں نے نوٹس پھاڑ دیا۔
خیال رہے کہ 1998 میں سلمان خان اور چند دیگر فنکاروں پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے جودھپور میں فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک نایاب کالے ہرن کا شکار کیا تھا۔
اس معاملے میں بشنوئی کمیونٹی نے سلمان خان کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ سلمان خان کو 1998 میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں ضمانت مل گئی۔ تقریباً 20 سال بعد ایک ٹرائل کورٹ نے انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی، تاہم بعد میں سیشن کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی۔
2022 میں راجستھان ہائی کورٹ نے کیس کی منتقلی کی درخواست منظور کی تھی، یہ کیس اب بھی راجستھان ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
مذکورہ معاملے پر بشنوئی گینگ کی جانب سے سلمان خان پر قاتلانہ حملوں کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔


























Leave a Reply