کراچی میں چین کے قونصل جنرل یانگ یونڈونگ نے کہا ہےکہ چین اور پاکستان نے باہمی تعلقات کو وسیع تر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ہرممکن کوشش کرنی چاہیےکہ پاک چین دوستی کا نیا باب لکھا جائے۔
یانگ یونڈونگ نے یہ بات پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ سےمتعلق سیمینار سے خطاب میں کہی۔ جس کا اہتمام کراچی میں چینی قونصل خانے میں کیا گیا تھا۔ چینی قونصل جنرل نے کہا کہ باہمی تعاون اور اسٹریٹیجک اعتماد دونوں ملکوں ہی کے مفاد میں ہے۔
صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین کا ذکر کرتے ہوئے قونصل جنرل نے کہا کہ دونوں ملکوں کے رہ نماوں نے باہمی تعلقات کو وسیع تر کرنے پر اتفاق کیا ہے جس سے ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ہمیں کوشش کرنi چاہیے کہ اس اتفاق رائے پر پوری طرح عمل کریں تاکہ پاک چین دوستی کا نیا باب لکھا جائے اور باہمی تعلقات کو نیا مستقبل ملے۔
دونوں ملکوں کی مشترکہ تقدیر پر بات کرتےہوئے قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے نئے چین کو تسلیم کیا، ایک چین پالیسی پر قائم ہے اور تائیوان کی آزادی کا پوری طرح مخالف ہے۔اسی طرح چین بھی پاکستان کی خودمختاری ، آزادی اور علاقائی سالمیت کو سپورٹ کرتا ہے۔اور پاکستان کی قومی سلامتی، استحکام ، ترقی اور خوشحالی میں معاون ہے۔
1955 کی بنڈونگ کانفرنس کاحوالہ دیتے ہوئے یانگ یونڈونگ نےکہا کہ چینی وزیراعظم چواین لائی نے وزیراعظم محمد علی کےساتھ دوستانہ تعلق قائم کیا تھا جس کے بعد ایک دوسرے ملک کےدورے کیے گئے۔ پھر چئیرمین ماوزےتنگ اور وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی تاریخی ملاقات ہوئی۔ اس وقت چئیرمین ماو کی عمر 83 برس تھی اور یہ انکی کسی بھی غیرملکی رہنما سے آخری ملاقات تھی۔
تاریخی حوالے دیتے ہوئے قونصل جنرل نے کہا کہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جب جنوب ایشیا اور دنیا کے حالات بدلے تو چین اور پاکستان کی دوستی تیزی سے مزید گہری ہونا شروع ہوئی تھی۔ انیس سو تریسٹھ میں چین اور پاکستان نے مذاکرات کے ذریعے سرحدی معاہدہ کیا۔
اُسی دور میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چین کے قانونی حقوق کا مسلسل دفاع بھی کیا اور یہ پاکستان جیسے دوستوں ہی کی بدولت تھا کہ انیس سو اکہتر میں چین کو اقوام متحدہ میں اسکی جائز نشست ملی۔ جبکہ چین نے سیاسی، معاشی اور فوجی مدد کرکے پاکستان کو مختلف دشواریوں سے نکلنے میں مدد دی۔
پاکستان اورچین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کا ذکر کرتےہوئے قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ یہ انیس سو ساٹھ اور ستر ہی کی دہائی تھی کہ چین اور پاکستان نے انتھک کوششوں کی بدولت پہاڑوں کا سینہ چیر کر شاہ راہ قراقرم بنائی جو کہ انسانی تعمیر وترقی میں کسی کرشمہ سے کم نہیں۔ یہی شاہ راہ دونوں ملکوں کی دوستی کی اعلی مثال بھی بنی۔
قونصل جنرل نے کہا کہ دونوں ملکوں کا تعلق نسل در نسل جذباتی بندھن اور دلوں سے جڑا ہےاور یہ ضرب المثل بن چکا ہے کہ پاک چین دوستی پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے۔اسی طرح چینی شہری اپنے پاکستانی دوستوں کو فولادی بھائی پاکستان کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں عوام کے باہمی تبادلے بڑھے ہیں۔پاکستانی وکلا، صحافیوں، تھنک ٹینک، اسکالرز، طلبہ اور ماہرین نے چین کےدورے کیے جو اس دوستی کوآگے بڑھانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے قونصل جنرل نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا محور عوام کی بھلائی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو کا علمبردار منصوبہ سی پیک نئے مرحلے ورژن ٹوپوائنٹ او میں داخل ہوچکا ہے۔ جس میں اعلی کوالٹی کی ڈیولپمنٹ کی جارہی ہے۔
سی پیک پاکستان کے انفرا اسٹرکچر میں انقلابی تبدیلیاں، صنعتوں کی اپ گریڈنگ اور معاشی بہتری لارہا ہے۔ یہ رابطہ کاری اقتصادی خوشحالی اور لوگوں کی بھلائی کا سبب بنی ہے۔ باہمی اعتماد کے سبب چینی سرمایہ کار بھی پاکستان میں بھرپورسرمایہ کاری کررہے ہیں۔
یانگ یونڈونگ تین برس کراچی میں چینی قونصل جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد اس ماہ عہدے سے سبکدوش ہورہے ہیں۔ قونصل جنرل نے کہا کہ یہ اعزاز ہے کہ پاک چین دوستی کا رشتہ مختلف انداز سے مضبوط بنانے میں انہیں بھی خدمات کاموقع ملا۔ اس عرصے میں انہوں نے عملی طور پر دیکھا کہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان یہ وہ مخلصانہ دوستی ہے جونظریاتی اور ثقافتی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہماری رگوں میں دوڑ رہی ہے۔
یانگ یونڈونگ کا کہنا تھا کہ اسی فولادی دوستی کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خواہ جیوپولیٹیکل سطح پر کچھ بھی ہو،دونوں ملک شانہ بشانہ ہیں تو اس تعاون پرمبنی شراکت داری کا نیاباب ضرور لکھا جائے گا، یہ بھی کہ وہ کہیں بھی ہوں، اس دوستی کی مضبوطی اور پاک چین بھائی چارہ کیلیے کام کرتے رہیں گے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply