چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےکہا ہےکہ صدر آصف زرداری کی اٹھارہویں ترمیم نہ ہوتی، این ایف سی ایوارڈ نہ ہوتا، تو نہ کسی شہر میں اورنج ٹرین نہ کہیں کوئی میٹرو بس چلتی، وزیراعظم اپنی شہباز اسپیڈ دکھائیں اور دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ مکمل کریں۔
دیامر میں انتخابی جلسے سے خطاب میں بلاول نے الزام لگایا کہ 2013 میں آصف زرداری کی حکومت کو سازش کےتحت ختم کرایا گیا، اگر آصف زرداری کی حکومت ختم نہ ہوتی تو دیامر بھاشا ڈیم بن چکا ہوتا، گلگت بلتستان میں پچھلی بار الیکشن میں پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ لیے، اس وقت ہم سے 9 سیٹیں چھین لی گئی تھیں، اس بار عوام جیالا وزیراعلیٰ منتخب کرائیں گے، پیپلز پارٹی 2 سال بعد عام انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرےگی۔
بلاول بھٹو زرداری نےکہا ہےکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے غریب عوام کے لیے آواز اٹھائی، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو غریبوں کی آواز تھیں، انہوں نے غریبوں کی خدمت کی، سازشی عناصر نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا، انھوں نے سوچا بے نظیر کے بعد کوئی نہیں ہوگا، بےنظیرکی شہادت کے بعد صدر زداری نےعوام کے لیےآواز اٹھائی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ صدرآصف زرداری نے بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام شروع کیا، سی پیک کی بنیاد رکھی، تمام جماعتوں کو کہنا چاہتا ہوں جو بھی آپ نے اپنے صوبےکے لیے کیا صدر زرداری کی وجہ سےکیا، صدر زرداری نے گلگت بلتستان کو نام دیا،گلگت بلتستان کو ناردرن ایریاکہا جاتا تھا، صدر زرداری کی حکومت ختم نہ ہوتی تو بھاشا ڈیم بن چکا ہوتا،7 جون کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت بن رہی ہے، یہ کام پورا کریں گے، وفاق سےکہتا ہوں پہلےدیامربھاشا ڈیم مکمل کرو، یہ پاکستان کی ضرروت ہے، دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ دیگر منصوبوں سے زیادہ اہم ہے، اپنے اتحادی وزیراعظم شہباز شریف کو کہتا ہوں جلد دیامر بھاشا ڈیم کو مکمل کریں، وزیراعظم صاحب شہباز اسپیڈ دکھائیں، ڈیم منصوبہ مکمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اس ملک کو پیپلزپارٹی جیسی حکومت کی ضرورت ہے، ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتے ہیں، دوسرے ممالک کو ملٹری بیسز بنانے کی اجازت دی گئی، جہاں سے وہ دوسرے ممالک پرحملے کرتے تھے، ایک قیدی ہے420 ، کہتا تھا میں نے ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا، تم نے کس چیز کاکہا تھا؟ مشرف کے بعد ایک ایسے مرد حُر کی حکوت آئی جس میں ہمت تھی، اس مرد حُر نے لات مار کر تمام بیسز بند کیے اور مہمانوں کو خدا حافظ کیا، پیپلزپارٹی کی تیسری بڑی کامیابی ہے کہ اس نے دوسرے ملک کی بیسز کو بندکیا، اگر ہم بیسز بند نہیں کرتے تو قیدی کہہ سکتا تھا ایبسلوٹلی ناٹ ۔
دوسری جانب ہنزہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ کچھ لوگ آپ کے پاس آئیں گے، بڑے بڑے دعوے کریں گے اور پھر بند دروازے کے پیچھے آپ کا سودا کریں گے۔
آصفہ بھٹو زرداری نےکہا کہ بلاول بھٹو زرداری نفرت اور تقسیم کی سیاست نہیں، محبت وفا اور خدمت کی سیاست کرتے ہیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت کے عوام کا پیار اور محبت کبھی نہیں بھول سکتی، ذوالفقار بھٹو نے عوام کو آواز دی، محترمہ نےعوام کے لیے شہادت قبول کی بلاول بھٹو نانا اور ماں کا مشن آگے بڑھا رہے ہیں، بلاول بھٹو عوام کے حقوق اور بہتری کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔


























Leave a Reply