عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات سے متعلق وزیراعظم ہاؤس آزاد کشمیر میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تاہم اے پی سی مہاجرین کی نشستوں پر واضح فیصلہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔
ن لیگ، پیپلزپارٹی ، جے یو آئی ف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود اے پی سی میں شریک ہوئے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اے پی سی کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اے پی سی مہاجرین نشستوں پر واضح فیصلہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی، اسمبلی کا اجلاس بلا کر نشستوں کےمعاملے پر اتفاق رائے لی جائےگی۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ تمام معاملات کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونے چاہیے ، آئینی عمل منتخب سیاسی قیادت کا حق ہے، اسمبلی کے ذریعے طےکیا جائے، ریاست کسی بھی صورت میں طاقت کا استعمال نہیں کرےگی۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حالات خراب ہوں تو بھارت منفی انداز میں استعمال کرتا ہے، ہمارے لیے سب سے مقدم ریاست ہے، عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج کی کال ایک ہفتہ مؤخر کرنےکی درخواست رد کردی۔
اے پی سی میں شامل جماعتوں کے قائدین نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی
عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس میں شامل جماعتوں کے قائدین نے متفقہ طور پرقرارداد منظور کرلی۔
قرار داد کے متن کے مطابق اجلاس میں شرکت کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی کو دعوت دی گئی تھی، انتظار کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بنی۔
قرار داد میں کہا گیا کہ اجلاس آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیتا ہے، جمہوری اداروں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا، ریاستی نظم و نسق یا ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
قرار داد میں زور دیا گیاکہ سیاسی، سماجی اور عوامی حلقے برداشت، مکالمے اور پُرامن سیاسی جدوجہد کو فروغ دیں، اجلاس آزاد کشمیر میں قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، بھارت منظم پروپیگنڈا سے ریاستی اداروں اور جمہوری ڈھانچے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قرار داد میں کہاگیاکہ قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں ہوں گے، آزاد کشمیر میں آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پُر امن انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے، الیکشن کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔
قرار داد میں کہا گیا کہ انتخابی عمل کو سبوتاژیامؤخر کرنے کی کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدباب کیا جائے۔


























Leave a Reply