موسمیاتی تبدیلی رواں سال فیفا ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں کی کارکردگی اور میچ کے معیار پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہےکہ ٹورنامنٹ کے 104 میں سے97 میچز کے دوران ایسی گرمی پڑنےکے امکانات بڑھ چکے ہیں جو کھلاڑیوں کی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے۔
موسمیاتی تحقیقاتی ادارے کلائمیٹ سینٹرل کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 28 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت فٹبالرز کی دوڑنے کی رفتار، اسپرنٹس کی تعداد، طے کیے جانے والے فاصلے اور ریکوری کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں میچ کی رفتار، حکمت عملی اور مجموعی معیار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 ورلڈ کپ کے تقریباً نصف میچز میں ایسی گرمی پڑنے کے امکانات 50 فیصد یا اس سے زیادہ ہیں جبکہ 26 میچز ایسے ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی نے اس خطرے میں کم از کم 10 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔
اوسطاً تمام میچز میں کارکردگی متاثر کرنے والی گرمی کے امکانات میں تقریباً 8 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا میچ میکسیکو کے شہر گواڈالاخارا میں اسپین اور یوراگوئےکے درمیان ہونے والا گروپ میچ ہوگا، اس مقابلےکے دوران درجہ حرارت کے 28 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے امکانات تقریباً 70 فیصد ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث 37 فیصد پوائنٹس زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ گواڈالاخارا اور میامی سمیت کئی میزبان شہروں میں کھیلے جانے والے میچز شدید گرمی کی زد میں آسکتے ہیں جبکہ 19 جولائی کو نیو جرسی میں شیڈول ورلڈ کپ فائنل کے دوران بھی ایسی گرمی پڑنے کے امکانات تقریباً 47 فیصد ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث نمایاں حد تک بڑھ چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 28 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت میں فٹبال کا انداز بدل جاتا ہے، کھلاڑی کم اسپرنٹ کرتے ہیں، میچ کی شدت میں کمی آتی ہے اور گول کے مواقع بھی کم پیدا ہوتے ہیں، ان کے مطابق شدید گرمی اور نمی کھلاڑیوں میں ہیٹ ایکزاسشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے طبی خطرات بھی بڑھا سکتی ہے۔
ناروے کے فٹبالر مورٹن تھورسبے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف کھلاڑیوں اور شائقین کی صحت کے لیے خطرہ نہیں بلکہ کھیل کے معیار کو بھی متاثر کررہا ہے، ان کے مطابق جب گرمی دوڑنے، بحالی اور مجموعی شدت پر اثر انداز ہوتی ہے تو فٹبال کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔
کلائمیٹ سینٹرل کے مطابق ورلڈ کپ منتظمین نے گرمی کے خطرات کم کرنے کے لیے گرم شہروں میں زیادہ شام کے اوقات میں میچز رکھنے اور تمام 104 میچز میں واٹر بریکس لازمی قرار دینے جیسے اقدامات کیے ہیں تاہم بیشتر اسٹیڈیم اوپن ائیر ہیں جس کے باعث کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


























Leave a Reply