یہ کوئی راز نہیں کہ پانی اچھی صحت کے لیے ناگزیر ہوتا ہے مگر ایک نئی طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزمرہ کے معمولات میں چائے اور کافی کو شامل کرنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے جبکہ لمبی زندگی کے حصول میں مدد ملتی ہے۔
برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور مشروبات جیسے کافی اور چائے پینے سے جسمانی خلیات کو فائدہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ جو افراد دن بھر میں 7 سے 8 کپ چائے، کافی اور پانی وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں، ان میں کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 2 کپ کافی اور 3 کپ چائے کا امتزاج قبل از وقت موت کا خطرہ 45 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔
ویسے تو متعدد تحقیقی رپورٹس میں چائے اور کافی کے فوائد کا الگ الگ جائزہ لیا گیا ہے۔
مگر اس نئی تحقیق میں ان دونوں کے امتزاج سے مرتب ہونے والے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔
اس مقصد کے لیے ایک لاکھ 82 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ 13 سال تک لیا گیا اور اس دوران ان سے سوالنامے بھروا کر روزانہ کافی، چائے اور پانی کے استعمال کی تفصیلات جمع کی گئیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ پانی صحت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے مگر جب اینٹی آکسائیڈنٹس والے مشروبات چائے اور کافی کو بھی معمولات کا حصہ بنایا جاتا ہے، جس سے میٹابولزم افعال بہتر ہوتے ہیں۔
ان مشروبات میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے پولی فینولز سے جسمانی ورم اور تکسیدی تناؤ میں کمی آتی ہے۔
اس سے ذیابیطس ٹائپ 2، موٹاپے اور میٹابولک سینڈروم جیسے امراض کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
میٹابولک امراض سے صرف بلڈ گلوکوز یا جسمانی وزن پر ہی اثرات مرتب نہیں ہوتے، بلکہ ان سے امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، جسمانی توانائی گھٹ جاتی ہے جبکہ بڑھاپے کی جانب سے سفر تیز ہو جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں ورم میں کمی لانے، انسولین کی حساسیت بہتر اور شریانوں کی صحت بہتر بنانے میں مددگار مشروبات کے استعمال سے نہ صرف زندگی کی مدت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیار زندگی بھی بہتر ہوتا ہے۔
کافی میں chlorogenic ایسڈ نامی مرکب موجود ہوتا ہے جو ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ میٹابولک افعال کو بہتر بناتا ہے۔
دوسری جانب چائے میں catechins نامی اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں جن سے ورم میں کمی آتی ہے، میٹابولزم بہتر ہوتا ہے جبکہ جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔
تو ان دونوں مشروبات کا امتزاج جسم کے متعدد حصوں پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔
محققین نے تسلیم کیا کہ نتائج کسی حد تک محدود ہیں کیونکہ کیفین کے زیادہ استعمال سے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جاتی ہے، انزائٹی اور نیند کے مسائل کا سامنا ہسکتا ہے جبکہ زیادہ پانی پینا بھی جسم میں نمکیات کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔


























Leave a Reply