کیا آپ جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں ؟ اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں درحقیقت عمر کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں اکثر افراد کو اس تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔
درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے۔
عموماً یہ مرض خون میں یورک ایسڈ جمنے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
عام طورپر یہ یورک ایسڈ خون میں تحلیل ہوکر گردوں کے راستے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے مگر جب جسم میں اس کی زیادہ مقدار بننے لگے تو گردے اس سے نجات پانے میں ناکام رہتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمنے لگتا ہے جس سے جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔
جوڑوں کے امراض کی متعدد اقسام ہیں اور لگ بھگ سب میں ورم کا کردار اہم ہوتا ہے۔
مگر اب دریافت ہوا ہے کہ موجودہ عہد کے افراد کی ایک بہت عام عادت جوڑوں کی تکلیف کا شکار بنا رہی ہے اور وہ ہے ناقص نیند۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی یا ناقص نیند کا سامنا کرنے والے افراد میں جوڑوں کے امراض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جبکہ نائٹ شفٹ کرنے والے افراد میں بھی یہ خطرہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں 5 لاکھ کے قریب افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جو یوکے بائیو بینک سے حاصل کیا گیا تھا۔
تحقیق میں جوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھانے والے روایتی عناصر جیسے عمر، موٹاپے اور ماضی میں جوڑوں کی انجری کے علاوہ دیکھا گیا کہ نیند اس حوالے سے کیا کردار ادا کرتی ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد ہر رات اکثر 6 گھنٹے سے کم سوتے ہیں یا بار بار جاگتے ہیں، ان میں جوڑوں بالخصوص گھٹنوں کی تکلیف کا خطرہ 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
اسی طرح نائٹ شفٹ کرنے والے افراد میں یہ خطرہ 24 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے ان شواہد میں اضافہ ہوتا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند اور جسم کی اندرونی گھڑی ورم، ٹشوز کی مرمت اور تکلیف کی حساسیت پر اثرانداز ہوتے ہیں اور یہ تینوں جوڑوں کی تکلیف کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے والے عوامل ہیں۔
یہ تعلق ایسے افراد میں بھی نظر آیا جو شروع میں جوڑوں کی دائمی تکلیف سے محفوظ تھے مگر نیند پوری نہیں کرتے تھے۔
محققین کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ناقص نیند جوڑوں کے امراض میں کردار ادا کرتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل Arthritis Care & Research میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply