حالیہ دنوں میں کراچی کے مسائل اور نظام کی ترجمانی ایک ریپ سانگ نے کی اور یہ گانا اپنے لفظوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ۔
‘ورث کراچی’ کے عنوان سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ریپ سانگ کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر کے رہائشی احسن کورائی نے تخلیق کیا ہے۔
انہوں نے جیو ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ جن دنوں یہ گانا لکھا اس وقت کراچی کے حالات نے انہیں ذہنی پریشانی میں مبتلا کیا ہوا تھا۔
احسن کورائی نے بتایا کہ‘مجھے گانا لکھتے ہوئے زیادہ سوچنا نہیں پڑا کیوں کہ آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں کہ ڈمپر نے شہری کو کچل دیا، مین ہول میں گرنے سے بچے کی جان چلی گئی ۔ جن دنوں یہ گانا لکھا اس وقت گل پلازہ کا سانحہ ہوا تھا ، گانے کے بول خود ہی ذہن میں آگئے’۔
احسن پری انجینئرنگ فرسٹ ائیر میں ہیں اور گزشتہ 4 سالوں سے ریپنگ کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ‘مجھے والدہ کی کافی سپورٹ ہے لیکن پہلے ایسا تھا کہ گھر والے ریپنگ کو میرے شوق کی حد تک قبول کرتے تھے لیکن جب سے گانا وائرل ہوا ہے اور لوگ جاننے لگے ہیں تو اب گھر والوں کا نظریہ بھی کافی تبدیل ہوا ہے’۔
احسن نے جیو ڈیجیٹل کو اپنی انسپریشن کے بارے میں بتاتے ہوئے نامور ریپر کا تذکرہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ‘میری ہمیشہ سے انسپیریشن طلحہ انجم رہے ہیں اور ان کو دیکھ کر ریپنگ کا سفر شروع کیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کہ آگے کیا ہوگا لیکن میں ریپنگ کو پیشے کے طور پر دیکھتا ہوں’۔
البتہ گانا ریلیز کرنے کے حوالےسے احسن نے بتایا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے گانا صرف سوشل میڈیا ریل پر ہی موجود ہے کیونکہ ان کے اس فیلڈ میں نہ تعلقات ہیں اور نہ ہی وہ کسی کو جانتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ‘ابھی تک کراچی پر بننے ولا ریپ سانگ ریلیز نہیں ہوا ہے کیونکہ مجھے ریکارڈنگ پروسس وغیرہ کے بارے میں معلوم نہیں جبکہ مزید نئے گانوں پر ریپنگ کی دنیا کے ایک بڑے نام کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے’۔


























Leave a Reply