واشنگٹن میں لبنانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے باہمی جنگ بندی کی امریکی تجویز قبول کرلی ہے۔
لبنانی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کو توسیع دے کر لبنان کے تمام علاقوں میں نافذ کرنے کی تجویز قبول کی ہے۔
لبنانی سفارتخانے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اسرائیل بیروت کے جنوبی علاقوں پر حملوں سے گریز کرے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے رکنِ پارلیمان حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ حزب اللہ پورے لبنان میں مکمل جنگ بندی کی حمایت کرےگی، یہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے ابتدائی قدم ہوگا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آنے والے دنوں میں جائزہ لیں گے کہ جنگی کارروائیوں کا خاتمہ مؤثر طور پر نافذ ہوتا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ ایران کی طرف سے امریکا سے رابطے معطل کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ہنگامی رابطہ کیا تھا اور ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں منصوبے کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔


























Leave a Reply