ویسے سچ پوچھیں تو مجھے امید نہیں تھی کہ مریم نواز کوئی غیر معمولی کارکردگی دکھا سکیں گی۔ میں نے کئی اور لوگوں سے بھی یہی سنا ہے کہ مریم نواز کے بارے میں اُن کا ابتدائی تاثر بڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہے، اور اس تبدیلی میں اُن کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب اب تک کی کارکردگی کا اہم کردار ہے۔
مجھے ذاتی طور پر جس تبدیلی نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، اُس کا تعلق بیوروکریسی اور پولیس سے ہے۔ دہائیوں سے ہم یہ نعرے اور وعدے سنتے آئے ہیں کہ سیاست زدہ بیوروکریسی، بشمول پولیس، کو غیر سیاسی بنایا جائیگااور اسے بیرونی مداخلت سے آزاد کیا جائیگا۔ لیکن نہ ن لیگ نہ پیپلز پارٹی اور نہ ہی تحریک انصاف اس مقصد کو حاصل کر پائیں، کیونکہ سیاستدان خود سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔ ویسے سیاسی مداخلت کے تمام ریکارڈ عثمان بزدار کی حکومت نے توڑے۔ اس بیرونی مداخلت کے نتیجے میں بیوروکریسی میں میرٹ اور کارکردگی کے بجائے جان پہچان اور سفارش کی بنیاد پر تعیناتیاں ہوتی رہیں، اور ہر قسم کے سفارشیوں کیلئےمداخلت کا راستہ کھلا رہا۔
جب مریم نواز وزیراعلیٰ بنیں تو اُنہوں نے واضح طور پر کہا کہ بیوروکریسی میں تعیناتیوں کے معاملے میں کوئی سفارش قبول نہیں کی جائے گی، اور یہ اُن کی”ریڈ لائن“ہو گی۔ اُنہوں نے اپنی جماعت کے رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کو بھی ہدایت کی کہ سرکاری افسران کی تعیناتیوں کے حوالے سے اُن سے کوئی سفارش نہ کی جائے- میں سمجھتا تھا کہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ ہے، جو اُن کی اپنی پارٹی کے اندر سے آنے والے دباؤ کا سامنا نہیں کر سکے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مریم نواز نے اس ریڈ لائن کو واقعی اپنی ریڈ لائن ثابت کیا۔
اُنہوں نے نہ صرف اپنی جماعت کے ارکانِ اسمبلی بلکہ بااثر رہنماؤں کی سفارشیں بھی مسترد کر دیں۔ یہاں تک کہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت سازی کے وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ پنجاب کے اُن اضلاع میں جہاں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی ہے، وہاں سول انتظامیہ اور پولیس کے افسران کی تعیناتی پیپلز پارٹی کی مشاورت سے کی جائیگی۔ مریم نواز نے ایسے کسی انتظام اور معاہدے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور واضح کیا کہ وہ بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں کریں گی۔ سیالکوٹ میں تعینات ایک افسر کی گرفتاری پر ایک سینئر بااثر ن لیگی جو وزیر بھی ہیں اور نواز شریف کے قریب بھی سمجھے جاتے ہیں ناراض تھے۔ اُنہوں نے میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی، لیکن مریم نواز نے نہ تو تبادلے کا فیصلہ واپس لیا اور نہ ہی متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی روکی۔
گڈ گورننس کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ سرکاری افسران کی تعیناتیاں مکمل طور پر میرٹ پر اور کسی بھی بیرونی مداخلت کے بغیر کی جائیں، اور اُن کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔ جب بیوروکریسی میں قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر ایک منظم نظام کے تحت تعیناتیاں ہوں گی تو طرزِ حکمرانی میں بہتری آئے گی، اور بظاہر پنجاب میں یہی ہو رہا ہے۔ مریم نواز کی حکومت کی کارکردگی کی تعریف اُن کے مخالفین بھی کرتے ہیں۔ بلکہ ”صاف ستھرا پنجاب “ کی تعریف تو پاکستان سے باہر بھی کی جا رہی ہے۔
سیاسی قیادت کا کام پالیسی سازی ہوتا ہے، جبکہ اُس پر عمل درآمد سرکاری مشینری کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ اگر اس مشینری کے تمام پرزے اپنی اپنی درست جگہ پر ہوں تو نظام مؤثر انداز میں کام کرتا ہے۔ لیکن اگر ایک جگہ کا پرزہ دوسری جگہ لگا دیا جائے تو پوری مشینری ناکارہ ہو جاتی ہے، اور مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔ مریم نواز نے پاکستانی سیاست میں ایک ایسا کام کر دکھایا ہے جس کا وعدہ تو سب نے کیا، لیکن عملی طور پر کوئی اسے پورا نہ کر سکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بہتری کو پاکستان کے تمام صوبوں اور وفاق تک پھیلایا جائے، اور اسے مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کیلئے اگر قانون سازی یا آئین میں ترمیم کی ضرورت بھی ہو تو وہ بھی کی جانی چاہیے، کیونکہ اسی میں پاکستان اور عوام دونوں کی بہتری ہے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply