وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات 90 منٹ جاری رہی، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن کے لیے ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی کی ایرانی صدرسے صدارتی محل میں ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ و داخلہ بھی موجود تھے۔
اس موقع پر ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک نے اپنی سرزمین کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جس سے امریکا اور اسرائیل کے ایران میں عدم تحفظ پھیلانے کے منصوبے ناکام ہوئے، پڑوسی ممالک کا یہ عمل قابل قدر اور قابل ستائش تھا۔
ایرانی صدر نے اپنی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کی اجازت نہ دینے پر پاکستان،عراق اور افغانستان کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا۔
محسن نقوی کی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے بھی ملاقات
وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان کی حمایت اور تعاون کو سراہتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہونا چاہیے، حالیہ واقعات سے ظاہر ہےکہ خطے میں امریکی موجودگی سکیورٹی کےفقدان کی وجہ ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ خطےمیں امریکی موجودگی سکیورٹی کو نقصان پہنچانےکا راستہ ہموارکرتی ہے، خطےکے ممالک کو اعتماد اور تعاون کے ذریعے سیاسی اور سکیورٹی تعاون کا راستہ ہموار کرنا چاہیے۔
محسن نقوین کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات میں آپ کی کوششوں کےگواہ ہیں، ایران کے مفادات کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے آپ کی کوششوں کےگواہ ہیں، ایران اور پاکستان کے عوام اب مزید قریب ہوگئے ہیں، پاکستانی عوام ایرانی حکومت اور عوام کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی ایسے وقت میں ایران گئے ہیں جب امریکا کی طرف سے ایران پر دوبارہ حملوں کی بات کی گئی ہے، مگر صدر ٹرمپ کے مطابق پاکستان کی درخواست پرایسا (حملہ) نہیں کیا کیونکہ پاکستان، امریکا اور ایران کا دوست ملک ہونے کے ناطے اس معاملے کے سفارتی حل کا خواہاں ہے۔


























Leave a Reply