پشاور کے اسلامیہ کالج میں خاتون لیکچرار سے بدتمیزی اور ہراساں کرنےکے واقعےمیں ملوث 3 طلباء کو 2 ہفتوں کیلئے معطل کردیاگیا۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایاگیاکہ ڈسپلنری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق واقعے میں 3 طلباء ملوث ہیں اور تینوں طلبا پرکمیٹی کے حتمی فیصلے تک یونیورسٹی میں داخلے پرپابندی ہے۔
ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے بتایاکہ ڈسپلنری کمیٹی کے حتمی فیصلے تک ہڑتال ملتوی کر دی گئی ہے، 8جون تک تمام تعلیمی سرگرمیاں بحال رہیں گی۔
واقعے کا پس منظر
اسلامیہ کالج پشاور کی خاتون ٹیچر گل رخ کے ساتھ کچھ طالب علموں نے کلاس ٹیسٹ کے دوران بدتمیزی کی اور ہراساں کیا جس پر انہوں نے وائس چانسلر اسلامیہ کالج کو خط لکھا۔
خاتون ٹیچر نے خط میں ملوث شرپسند طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی استدعا کی، خاتون ٹیچر نے خط میں لکھا کہ طالب علموں نے پاسنگ گریڈ نہ دینے پر سیاسی تعلقات کی دھمکیاں دیں۔
خط میں ٹیچر نے الزامات عائد کیے کہ انہوں نے 12 مئی کو صبح 11 بجے بوٹنی ڈیپارٹمنٹ کے دوسرے سمسٹر کی کلاس میں ٹیسٹ لیا جس میں آدھے لڑکے کھڑے ہوگئے اور ٹیسٹ دینے سے انکار کر دیا اور دیگر طلبہ کو بھی ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔
خط میں ٹیچر نے لکھا کہ طلبا نے ٹیسٹ کے پرچے پھاڑ کر میرے چہرے پر پھینک دیے اور اس کے بعد وہ کلاس سے باہر نکل گئے اور مجھے اور دیگر طالبات کو کمرے میں بند کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے باقی طلبہ کے ساتھ ٹیسٹ جاری رکھا جبکہ کچھ دیر بعد وہ مزید لڑکوں کو ساتھ لے کر واپس آئے اور کلاس روم میں داخل ہو کر مجھے گھیر لیا اور دھمکیاں دیتے رہے۔
خاتون ٹیچر نے خط میں کہا کہ جب میں کلاس سے باہر نکلی تو انہوں نے ڈیپارٹمنٹ کا گیٹ بند کر دیا اور مسلسل پاسنگ مارکس دینے کیلئے مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے اور سیاسی تعلقات کی دھمکیاں بھی دیں۔
خاتون ٹیچر کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعے پر ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے ملوث طلبہ کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تدریسی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

























Leave a Reply