اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق فوجی سروس چھوڑنے والے اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 80 فیصد اہلکار ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے فوج چھوڑ رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام نے خبردار کیا ہےکہ 7 اکتوبر کے بعد سے مستقل اور ریزرو فوجیوں پر پڑنے والا بوجھ بڑھ رہا ہے، اگر کوئی حقیقی حل نہ نکالا گیا تو فوج مستقبل میں جنگی اور معمول کی سکیورٹی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہو جائےگی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے ریزرو فوجیوں کو تین سال میں صرف 25 دن خدمات انجام دینا پڑتی تھیں، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے بعد بہت سے اہلکار 170 دن سے زیادہ ریزرو ڈیوٹی انجام دے چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے 2026 میں ریزرو ڈیوٹی کو 80 سے 100 دن تک محدود رکھنےکا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن بعض یونٹس پہلے ہی اس حد سے تجاوز کر چکے ہیں، جس کی ایک وجہ ایران اور لبنان سے متعلق اضافی فوجی مشنز ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مسلسل جنگوں میں ہزاروں فوجی زخمی ہو چکے ہیں جب کہ دیگر نے فوجی سروس چھوڑ دی ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مہینوں پر محیط مسلسل لڑائی نے بھی شدید تھکن اور ذہنی دباؤ پیدا کیا ہے، جنگ کے آغاز سے اب تک مستقل فوجیوں کو تقریباً بغیر وقفے کے خدمات انجام دینا پڑ رہی ہیں اور انہیں آرام یا تربیت کے لیے مناسب وقت نہیں مل رہا۔
حکام نے اعتراف کیا کہ نظام جنگی فوجیوں کو مختصر آرام کا وقت دینے میں بھی ناکام ہو رہا ہے اور خبردار کیا کہ مسلسل تھکن فوج کی تیاری اور کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
فوج کے اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً 80 ہزار اسرائیلی شہری فوجی بھرتی سے بچ رہے ہیں، جن میں سے 75 فیصد الٹرا آرتھوڈوکس یہودی ہیں۔
اسرائیلی فوجی حکام نےکہا ہےکہ سیاسی قیادت کی جانب سے لازمی فوجی سروس اور ریزرو ڈیوٹی سے متعلق فوری قانون سازی الٹرا آرتھوڈوکس (کٹر روایت پسند) یہودیوں کو فوجی بھرتی سے استثنیٰ دینے والے متنازع بل کے ساتھ جوڑنے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ اس کے باعث اسرائیلی فوج میں افرادی قوت کا بحران بڑھ رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہےکہ الٹرا آرتھوڈوکس استثنیٰ بل، لازمی فوجی سروس کی مدت بڑھانے کا بل اور ریزرو ڈیوٹی میں توسیع کا بل الگ الگ منظور کیے جانے چاہئیں۔ انہیں ایک ساتھ جوڑنے سے دو اہم قوانین تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں جن کی فوج کو افرادی قلت پوری کرنے کے لیے فوری ضرورت ہے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق فوج کے اہم ترین مطالبات میں سے ایک لازمی فوجی سروس کو موجودہ 32 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کرنا ہے۔ فوج نے جنوری 2024 میں پہلی بار اس قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو الٹرا آرتھوڈوکس بھرتی کے تنازع سے جوڑنے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق اس کے آپریشنل اثرات نہایت سنگین ہیں کیونکہ ہزاروں جنگی فوجی جنوری میں ریٹائر ہونے والے ہیں، جبکہ نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کی تربیت مکمل ہونے میں ابھی وقت باقی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس وقت تقریباً 12 ہزار لازمی فوجیوں کی کمی ہے، جن میں 6 ہزار سے 7 ہزار تک جنگی اہلکار شامل ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ اگر فوجی سروس کی مدت کم کی گئی تو مزید 4 ہزار فوجیوں کی فوری کمی پیدا ہو جائے گی جو طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔


























Leave a Reply