اپنے اردگرد دیکھیں اور کسی تھکاوٹ کے شکار فرد کو تلاش کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
اب آپ بازار سے خریداری کر رہے ہوں، دفتر جا رہے ہوں یا گاڑی چلا رہے ہوں، تھکاوٹ کے شکار افراد کو دیکھنا معمول محسوس ہوتا ہے۔
درحقیقت ہر وقت تھکاوٹ کے شکار رہنے کی وجہ بہت عام ہوسکتی ہے اور وہ ہے جسم میں بی وٹامنز کی کمی۔
یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اہم وٹامنز خصوصاً وٹامن بی 12 اور فولیٹ (وٹامن بی 9) کی کمی سے ہر وقت تھکاوٹ کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ویسے تو تھکاوٹ کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے تناؤ، ناقص نیند یا مصروف شیڈول، مگر جب تھکاوٹ کا تسلسل برقرار رہے اور اچھی نیند یا چائے یا کافی سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر یہ وٹامن بی 12 اور فولیٹ کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ناقص غذائی عادات بھی ہر وقت تھکاوٹ کا شکار بنانے کا باعث بن سکتی ہیں۔
یہ دونوں وٹامنز خون میں موجود ایک جز homocysteine کو ریگولیٹ کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور جسم میں ان وٹامنز کی کمی سے اس جز کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
اس تحقیق میں 600 صحت مند افراد کو شامل کرکے ان کے خون میں homocysteine، فولیٹ اور وٹامن بی 12 کی سطح کی جانچ پڑتال کی گئی، جس کے بعد تھکاوٹ کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کے جسموں میں وٹامن بی 12 اور فولیٹ کی کمی تھی، ان میں homocysteine کی سطح زیادہ تھی۔
اس کے بعد محققین نے اس جز کی سطح اور تھکاوٹ کے درمیان تعلق کا تجزیہ کیا جبکہ دیگر عناصر جیسے عمر، نیند کے دوران، کام کے بوجھ اور غذائی عادات کو بھی مدنظر رکھا۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ جن افراد کے جسموں میں homocysteine کی سطح زیادہ ہوتی ہے، وہ شدید جسمانی تھکاوٹ اور نقاہت کو رپورٹ کرتے ہیں جبکہ کام کرنے کا بھی دل نہیں کرتا۔
محققین کے مطابق نتائج سے وٹامن بی 12، فولیٹ اور تھکاوٹ کے درمیان تعلق ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب اس تعلق کو دریافت کیا گیا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیوٹریشنز میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply