وفاقی وزیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جن مسائل پر 28 ویں ترمیم آسکتی ہے وہ بنیادی نوعیت کے ہی ہوں گے، افواج پاکستان سے متعلق اس میں کوئی شق نہیں ہے، آئینی عہدوں سے متعلق کچھ لوگ ہیں جو صدارتی نظام کو بہتر سمجھتے ہیں لیکن اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام ہی پاکستان کے لیے بہتر ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا 27 ترامیم ہوچکی ہیں، اب جو بھی ترمیم ہوگی وہ 28 ویں ہی ہوگی اس پر تو کوئی بحث نہیں ہے اور انتظار بھی 28 ویں ہی کا ہے البتہ جن مسائل پر یہ ترمیم آسکتی ہے وہ بنیادی نوعیت کے ہی ہوں گے، یہ ممکن ہے کہ میں اُس سے متعلق جس طرح سوچ رہا ہوں کوئی دوسرا نہیں سوچ رہا ہو اور اس لیے اس پر بات ہوتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی، آبادی، پانی کی ترسیل کے مسائل اور کئی معاملات زیر غور رہتے ہیں اور ان پر مختلف زاویوں سے گفتگو ہوتی رہتی ہے اور ان تمام چیزوں میں کوئی ایک بھی چیز ایسی نہیں ہے کہ اگر اتفاق رائے پیدا ہو جائے تو اس کو بغیر ترمیم بنائے عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے مزید کہا ووٹر کی عمر بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر الیکشن لڑنے سے متعلق جب آپ سمجھتے ہیں کہ کم سے کم عمر 25 سال ہونی چاہیے تو ووٹر دینا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے، پیپلز پارتی ہم سے ناراض نہیں بلاول بھٹونے درست کہا ہے کہ ان کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی، جب بھی جس پر بھی اتفاق رائے ہوگا تو مطلب یہی ہوگا کہ 28 ویں ترمیم ہی آئے گی اور یہ بات بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بعض چیزوں پر جلد فیصلہ لینا ہوگا۔


























Leave a Reply