وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جیکب آباد میں پسند کی شادی کی پاداش میں پورے گاؤں کو آگ لگانے کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر اور ڈی آئی جی لاڑکانہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ سندھ نےکہاکمشنر لاڑکانہ متاثرین کی فوری مدد کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں، پتا لگایا جائےکہ گھروں کو کس کے حکم پر جلایا گیا، کسی کو عوام کے جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 100 سے زائد گھروں کو جلانے کو غیر انسانی عمل اور ناقابل برداشت قرار دیا۔
واقعے کا پس منظر
یاد رہےکہ جیکب آباد میں پسند کی شادی پر مسلح افراد نے درجنوں گھروں کو آگ لگادی۔
ایس ایس پی جیکب آباد فیضان علی کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق گاؤں صدیق آرائیں اورگاؤں غازی خان چنہ کے جوڑے نے حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی، پسند کی شادی کرنے پر ملزمان نےگاؤں کو آگ لگائی۔
پسند کی شادی کرنے والے لڑکے کے والد ملہار برڑو نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کیا کہ گاؤں والوں کا کیا قصور تھا؟ ڈیڑھ سو مکانوں کو کیوں جلادیا گیا؟
انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ صدام برڑو اور چنہ برادری کے سردار احمد علی چنہ 400 مسلح افراد کے ساتھ آئے اور پورے گاؤں کو آگ لگادی ، سب بے بسی سے دیکھتے رہے۔
لڑکی کے رشتے دار سردار احمد علی چنہ نے الزام مسترد کردیا اور کہا کہ ان کےگاؤں سے کم عمر لڑکی کو اغوا کیا گیا، اغوا کے خلاف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ، مکانوں کو آگ لگانے کے واقعے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں۔


























Leave a Reply