پاکستان نے عبدالحفیظ کاردار مرحوم کی قیادت میں 1952 میں بھارت کا دورہ کیا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں یہ پاکستان کا اولین دورہ تھا۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ 74 برس پر محیط ہے۔ گز رے ہوئے ان برسوں میں قومی کرکٹ ٹیم نے 469 ٹیسٹ کھیلے،152جیتے، 151ہارے اور166 ڈرا رہے۔ پاکستان نے ان ٹیسٹ میچوں میں 262کرکٹرز کو ٹیسٹ کیپ پیش کی۔
حالیہ دورہ بنگلادیش میں قومی کرکٹ ٹیم میزبان ٹیم کے ہاتھوں 0-2 کی ہزیمت سے دوچار ہوئی۔
شکست اور فتح کھیل کے دو بنیادی عنصر ہیں البتہ موجودہ قومی کرکٹ ٹیم کی طویل دورانیے کی ٹیسٹ کرکٹ میں تباہی اور بربادی کی کہانی پر پاکستان کرکٹ کے حلقوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
کپتان شان مسعود کو دسمبر 2023 میں چیئرمین پی سی بی چوہدری ذکاء اشرف نے بابر اعظم کے دست بردار ہونے پر قیادت کے منصب پر براجمان کیا۔ گزشتہ 30 ماہ کے دوران پاکستان ان کی قیادت میں 16 میں سے 12 ٹیسٹ ہار چکاہے۔
آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا یہ تیسرا دورانیہ ہے جہاں پاکستان کرکٹ ٹیم 9 ٹیموں میں صرف ویسٹ انڈیز سے اوپر یعنی آٹھویں نمبر پر ہے اور پاکستان کی اگلی 2 ٹیسٹ پر مشتمل سیریز ویسٹ انڈیز کےساتھ اس کے ہوم گراونڈ پر ہے۔ مطلب خراب کارکردگی کا اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو قومی ٹیم سب سے آخری نمبر پر جانے کے دہانے پر کھٹری ہے۔
آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ 21-2019 میں پاکستان پانچویں نمبر پر رہا۔23-2021 کے دوسرے ایڈیشن میں ساتویں اور 25-2023 کے تیسرے ایڈیشن میں نویں اور آخری نمبر پر آیا۔ اور حالات اب بھی انتہائی ابتر دکھائی دے رہے ہیں ۔ فائنل کی دوڑ میں شامل ہونا تو دور کی بات ، پہلی پانچ ٹیموں تک رسائی بھی ایک بٹرا چیلنج دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں کیوں اچھا کھیل پیش نہیں کر پارہا؟ ماہرین، مبصرین، کرکٹ پنڈت اور سابق کھلاڑیوں کا ایک ہی نقطہ نظر ہے کہ جب تک ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے کو مضبوط نہیں کیا جائے گا،کھلاڑیوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی ترغیب نہیں دی جائے گی،حالات یونہی چلتے رہیں گے اور ممکن ہے اس سے بھی ابتر ہو جائیں۔
دراصل ہر کسی کی اپنی رائے ہے بیشتر لوگ پاکستان سپر لیگ کو بھی اس ناکامی کی وجہ قرار دے رہے ہیں جبکہ درحقیت پاکستان سپر لیگ نے تو پاکستان کرکٹ کو استحکام دیا ہے کھلاڑیوں کے مستقبل کو سنوارا ہے البتہ سلیکشن کے معاملات، فٹنس پر سمجھوتہ اور کھلاڑیوں کی توجہ شاید سب سے اہم محرک ہے جس پر درست معنوں میں توجہ دیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔
ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنڑیکٹ کی ’ڈی‘ کیٹگری میں ہیں،بنگلادیش کے خلاف 2 ٹیسٹ کی 4 اننگز میں 87 اوورز کرنے والے دائیں ہاتھ کے تیز بولر محمد عباس بھی اسی کیٹگری میں شامل ہیں۔ ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل سینڑل کنٹریکٹ کی ’سی‘ کیٹگری میں اسپنرز نعمان علی اور ساجد خان کے ساتھ موجود ہیں۔جب ٹیسٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بورڈ اس نگاہ سے دیکھ رہا ہے تو پھر طویل دورانیے میں پرفارمنس کا بھی یہی معیار نظر آئے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ سے مراعات اور سہولیات میں فائدہ اٹھا نے والے سر فہرست کرکٹرز میں آل راونڈر شاداب خان نے 2020 کے بعد سے کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا، پاکستان کے نمبر ’ون‘ بیٹر بابر اعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں دسمبر 2022 کے بعد سے کوئی سینچری اننگز نہیں کھیلی، وہ اس کے بعد سے 34 ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔ وکٹ کیپر محمد رضوان ٹیسٹ کرکٹ میں 2020 اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے 2021 کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی مین آف دا میچ ایوارڈ نہیں لیا۔
گزشتہ 30 ماہ کے دوران قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اس منصب پر آنے والے پانچویں کوچ ہیں، ان سے قبل کرکٹ بورڈ اس عہدے پر محمد حفیظ،جیسن گلیسپیی،عاقب جاوید اور اظہر محمود کے تجربات کر چکا ہے ۔ جب اتنے سارے مسائل ہوں گے تو پھر ہم ٹیسٹ کرکٹ میں شکست کا طوق اپنے گلے سے کیسے اتار سکیں گے؟
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply