شاہراہِ بھٹو، سابقہ ملیر ایکسپریس وے کا آج افتتاح ہو گیا ہے، اس موقع پر میری یہ تحریر شائد کچھ لوگوں کو شادی کے دن مرگ نامے جیسی لگے۔
ملیر ندی سے میری وابستگی کئی دھائیوں پر مشتمل ہے۔ ملیر ندی کے دائیں جانب شاہ فیصل کالونی ہماری آبائی رہائش گاہ ہے۔ 1970 کے ابتدائی سالوں میں، میں نے اس ندی کو بڑی حد تک اس کی قدرتی شکل میں دیکھا ہے۔ اونچے نیچے ریت کے ٹیلے اور اس کے درمیان بہتا صاف شفاف پانی۔ یہ پانی اس قدر شفاف ہوتا تھا کہ ندی کی سنہری ریت پر بہتے پانی میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیاں صاف نظر آتی تھیں۔
ندی میں پانی کے بڑے بڑے تالاب بھی تھے جہاں لوگ تیراکی کرتے اور مچھلی کا شکار کرتے تھے۔ برطانوی دور میں کراچی کو پانی کی فراہمی ملیر ندی کے اندر بنے مشہور ڈملوٹی کے درجن بھر کنوؤں سے ہوتی تھی، یہ ایک ایسا حیرت انگیز نظام تھا جس کے ذریعے پانی ڈملوٹی سے کئی کلومیٹر دور کراچی کے مرکز تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہ کنویں اب بھی موجود ہیں لیکن غیر فعال ہیں۔
ملیر ندی میں جنگلی درختوں کے جھنڈ بھی تھے جہاں میں نے کچھوے، گیدڑ، تیتر، جل مرغی، اور طوطوں سمیت درجنوں اقسام کے پرندے دیکھے، ہد ہد جیسے نایاب پرندے کو میں اپنے گھر کے لان میں چگتے دیکھا ہے۔
موسم سرما میں سائبیریا سے آنے والے آبی پرندے ملیر ندی کے تالابوں میں اترتے تھے اور ندی میں شکار بھی ہوتا تھا۔
یہ بانی پیپلز پارٹی کی حکومت کا دور تھا اور غلام مصطفیٰ جتوئی سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے، ان دنوں شاہ فیصل کالونی کے کچھ سرگرم سیاسی رہنماؤں نے ریت کے ٹیلے ہموار کرکے ملیر ندی میں کاشت کاری شروع کی اور ایک متروک پائپ لائن کے ذریعے شاہ فیصل کالونی سے سیوریج کا پانی ملیر ندی کے اندر پہنچا دیا۔
یہ ابتدا تھی۔۔۔ اس کے بعد سے تو بڑے پیمانے پر شہر بھر سے سیوریج کا پانی خود حکومتی سطح پر بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے براہ راست ملیر ندی میں ڈالا جا رہا ہے۔
میں نے اچھے دنوں میں خود ملیر ندی اور اس کے اطراف بنے کنوؤں سے سیراب ہونے والے سیکڑوں ایکڑ پر پھیلے امرود، بیر، چیکو اور پپیتے کے باغات دیکھے ہیں اور اپنے ہاتھ سے توڑ کر ان کے پھل کھائے ہیں۔ یہ باغ مالکان بہت محبت کرنے والے تھے اور پھل کھانے کی دعوت خود دیتے تھے بلکہ تحفہ میں بھی دیتے تھے ۔
یہ تو تھیں ملیر ندی سے متعلق میری یادیں۔ اب بات کرتے ہیں شاہراہِ بھٹو کی۔
شاہراہِ بھٹو یا سابقہ ملیر ایکسپریس وے فطرت کی تباہی کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے ملیر ندی کو ناقابلِ تلافی ماحولیاتی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ صرف میری رائے نہیں بلکہ ماحولیات کے اکثر ماہرین بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔
یقین رکھیں کہ میں ملیر ندی میں بننے والی شاہراہِ بھٹو کا مخالف ہرگز نہیں۔ لیکن شاہراہِ بھٹو جو لیاری ایکسپریس وے کی طرح ملیر ندی کے دونوں پشتوں یا بند پر بننی چاہیے تھی وہ ندی کے تقریباً درمیان میں بنائی گئی ہے۔ ایکسپریس وے کی تعمیر کیلئے مٹی ندی کے اندر سے ہی تقریباً 20 فٹ کی گہرائی تک کھود کر نکالی گئی ہے جس سے پورے 39 کلومیٹر تک ندی کی زیر زمین برساتی پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اب تقریباً ختم ہو گئی ہے۔
اس تعمیر سے پہلے ملیر ندی برساتی پانی کا بڑا حصہ سمندر میں جانے سے پہلے اپنے پیٹ میں موجود نرم ریت کے اندر جذب کر لیتی تھی جس سے علاقے کے کنوؤں اور بورنگ میں سال بھر تازہ میٹھا پانی دستیاب رہتا تھا جو پینے اور زراعت کے کام آتا۔ یہ پانی زیر زمین سو ڈیڑھ سو فٹ کی گہرائی میں مل جاتا تھا۔
ایکسپریس وے کی تعمیر کے بعد ندی کے دونوں اطراف اب لانڈھی سے کورنگی اور بلوچ کالونی سے شاہ فیصل کالونی، قائد آباد اور ملیر کے گوٹھوں تک سیکڑوں کنویں اور بورنگ خشک ہوچکے ہیں۔ اب علاقے میں چار سو سے چھ سو فٹ کی گہرائی میں بھی بمشکل پانی مل رہا ہے۔
واضح رہے کہ ملیر کے تقریباً تمام گوٹھوں میں سرکاری واٹر سپلائی نہیں ہے اور ان کا گزارا کنوؤں کے پانی پر ہے۔ اس کے باوجود کہ ان تمام علاقوں سے ہمیشہ حکمران جماعت کے امیدوار ہی الیکشن جیتے ہیں۔
ملیر ندی اپنی قدرتی ہریالی اور صاف ستھری ہوا کی وجہ سے کراچی کا آکسیجن ٹینٹ کہلاتی ہے، پھلوں کے اپنے باغات اور سبزی کی کاشت کی وجہ سے ملیر ندی کو کراچی کی فوڈ باسکٹ بھی کہتے ہیں۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملیر ندی میں چھوٹے چھوٹے بند بنا کر برساتی اور سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کا انتظام کیا تھا لیکن حالیہ برسوں میں اور اب شاہراہِ بھٹو کیلئے ملیر ندی کی تہہ سے ریت نکال نکال کر اسے بانجھ کر دیا گیا ہے۔ ندی میں آنے والا برساتی اور سیلابی پانی اب ندی کے پیٹ میں جذب ہوئے بغیر تیزی سے سمندر کی نذر ہو رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ بھٹو کے ویژن کے خلاف ہے۔
علاقے کے باشعور لوگوں خصوصاً ملیر کے گوٹھوں کے قدیم بلوچ باشندوں اور جوکھیو برادری کے علاوہ ماحولیات کے ماہرین نے بھی اس منصوبے کی شدید مخالف کی تھی لیکن سندھ حکومت نے کسی کی نہیں سنی۔
اس ایکسپریس وے کا ٹھیکہ بی او ٹی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایک ایسے ادارے کے پاس ہے جس کی قوت سے حکومت اور دلیر ہو گئی۔ اس نے مخالفت کی ہر آواز کو زور زبردستی، پولیس اور مقدمات کے ذریعے خاموش کرا دیا۔
اگر یہ شاہراہِ بھٹو لیاری ایکسپریس وے کی طرح ملیر ندی کے دونوں کناروں پر بنتی اور ندی کے اندر سے ریت نہیں چرائی جاتی تو یہ ایک نہایت مفید اور خوبصورت منصوبہ ہوتا۔ ملیر ندی کا ماحول، خوبصورتی، جنگلی حیات اور کراچی شہر کیلئے اس کی افادیت برقرار رہتی ۔ اور اگر ایکسپریس وے کو درمیان میں ہی بنانا ضروری تھا تو اسے بھرائی کی بجائے مکمل طور پر ستونوں پر بنایا جانا چاہیے تھا تاکہ سیلابی پانی کو بہنے کیلئے ندی کی پوری چوڑائی ملتی اور ماحول اور جنگلی حیات کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔
لیکن نام نہاد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر کم خرچ کرکے زیادہ سے زیادہ کمانے کی لالچ نے ملیر ندی کو تباہ کر دیا ہے۔
ایک بڑا خطرہ یہ بھی ہےکہ شاہراہِ بھٹو ملیر ندی کے دائیں کنارے سے کئی سو گز اندر بھرائی کرکے بنائی گئی ہے۔ اس طرح ملیر ندی کے دائیں کنارے اور شاہراہِ بھٹو کے درمیان 39 کلومیٹر لمبائی میں سیکڑوں ایکڑ زمین ندی سے الگ ہو گئی ہے۔ ملیر ندی سے چھینی گئی اس زمین پر قبضہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ قبضہ کون کر رہا ہے اور کس کی سرپرستی میں ہو رہا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
دوسرا بڑا خطرہ ملیر ندی کے بائیں کنارے کے قریب کی آبادیوں اور کورنگی انڈسٹریل ایریا کو ہے۔ ندی کے اندر گہری کھدائی، ریتی بجری کی چوری اور کئی دہائیوں سے مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ندی کے بند بہت کمزور ہو گئے ہیں۔
دائیں جانب ایکسپریس وے کی تعمیر کی وجہ سے اب جب بھی ندی میں بڑا سیلاب یا سپر فلڈ آیا تو سیلابی پانی کا سارا زور اور دباؤ بائیں جانب کے بند پر ہوگا۔ خدا ناخواستہ یہ بند ٹوٹا تو کورنگی انڈسٹریل ایریا اور اطراف کی گنجان آبادی کو شدید نقصان کا خدشہ ہے۔
ندی کی چوڑائی بہت کم ہو جانے کی وجہ سے سپر فلڈ کے دوران ندی کے اندر پانی کا بہاؤ انتہائی تیز اور طغیانی شدید تر ہوگی جس کی وجہ سے ایکسپریس وے کو بھی ہمیشہ خطرہ رہے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جب ملیر ندی میں درمیانے درجے کا سیلاب آیا تھا تو میمن گوٹھ کے قریب شاہراہِ بھٹو کا ایک تعمیر شدہ حصہ بہہ گیا تھا جسے سندھ حکومت زیر تعمیر قرار دیتی رہی۔ اس جگہ اب ستون بنا کر ایکسپریس وے کو گزارا گیا ہے یعنی یہ تسلیم کر لیا گیا کہ شاہراہِ بھٹو کے ڈیزائن میں نقص تھا ۔ ایسے نقائص وقت کے ساتھ ساتھ اور سامنے آئیں گے۔
یہ بات غور طلب ہے کہ شاہراہِ بھٹو کی تعمیر میں بھرائی کیلئے استعمال ہونے والی خاص مٹی ’مرم‘ کی جگہ ملیر ندی کی نرم ریت استعمال ہوئی ہے جو تیز سیلابی کٹاؤ کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملیر ندی کے مزاج کو سمجھے بغیر اس کے اندر ایکسپریس وے تعمیر کی گئی ہے اس لیے یہ ہمیشہ خطرے میں رہے گی۔
ملیر کے قدیم باشندوں کا ایک دکھ اور بھی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ان کی زمینوں اور ان کے مستقبل پر سے گزرنے والی ملیر ایکسپریس وے کا نام ان سے چھین لیا گیا۔
ملیر ندی کی شادابی اور صحت بخش آب و ہوا کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیں کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح چھٹیوں کے دوران آرام کیلئے ملیر ندی کے کنارے ایک بنگلے میں تشریف لاتے تھے۔ یہ بنگلہ تو اب بھی موجود ہے۔۔۔ لیکن میری ملیر ندی مر رہی ہے ۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply