پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے ناراض ارکان کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل روکنےکا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی اعلامیہ کے مطابق تحریک انصاف خیبر پختونخوا نے پارلیمانی کمیٹی کو نئی ہدایت جاری کردی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کو کہا گیا ہےکہ ناراض ارکان سے رابطہ نہ کریں، پارٹی معاملات میڈیا پر اٹھانے والے اور قیادت پر دباؤ ڈالنے والے پارٹی ارکان سے رابطہ نہ کیا جائے، جن ارکان اسمبلی کو کوئی شکایات یا مسائل درپیش ہیں انہیں سنا جارہا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پارٹی اعلامیہ کو پارٹی کے اندر ڈکٹیٹر شپ قرار دے دیا۔
علی امین کا پارٹی کے پارلیمانی واٹس ایپ گروپ میں آڈیو مسیج جیونیوز کو موصول ہوا ہے جس میں علی امین کہہ رہے ہیں کہ ماضی میں ان کے دور میں بھی پارٹی کے صوبائی صدور نے ان کی حکومت کے خلاف باتیں کی، پارٹی سے اختلاف رکھنے والے اراکین کو اعلامیہ کے ذریعے دھمکیاں نہ دی جائیں، ماضی میں ایسی باتوں پر کبھی اعلامیے جاری نہيں ہوئے۔
علی امین کا کہنا تھا کہ وہ مفت مشورہ دے رہے ہیں کہ ناراض اراکین کے تحفظات دور کیے جائيں، ڈکٹیٹر شپ والا رویہ معاملات مزید خراب کرےگا۔
دوسری جانب مشتاق غنی کا بھی کہنا ہےکہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہيں کی صرف یہ جرم کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا نام لیا۔
ادریس خٹک نے بھی کہا کہ نوٹیفکیشن سے نظر آرہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے، پارٹی کےقائدین نہیں چاہتےکہ بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھائیں، جو بھی بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھائےگا، اس کا یہی انجام ہوگا، کبھی نوٹس ملیں گے،کھبی پارٹی سے باہر نکالنے کی دھمکیاں ملیں گی۔
ادریس خٹک کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی بانی پی ٹی آئی کی ہے، صرف ایک بانی پی ٹی آئی کو ہی جانتے ہیں، باقی کوئی بانی پی ٹی آئی بننےکی کوشش نہ کریں، ہم بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے، یہ جرم بار بارکرتے رہیں گے۔


























Leave a Reply