غزہ میں مسلسل تیسرے سال جنگ، بھوک اور تباہی کے سائے میں عیدالاضحیٰ منائی جارہی ہے۔
غزہ کے الشفا اسپتال کے ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ غزہ سٹی کے مغربی حصے میں 26 مئی کی شب اسرائیلی حملے میں 6 افراد شہید اور 20 زخمی ہوئے۔ اسرائیل کی جانب سے شہر کے گنجان حصے کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب شہری عید الاضحیٰ کی تیاریاں کر رہے تھے۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے 9 بجے غزہ سٹی میں 3 بڑے دھماکے ہوئے اور یہ حملہ مارکیٹوں اور متعدد دکانوں والے علاقے میں ہوا، جہاں لوگ عید کی خریداری میں مصروف تھے۔
اسرائیلی حملوں کے باعث عید کی خوشیاں غم میں ڈوبی رہیں۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی بمباری سے شہید مساجد کے باہر نماز عید ادا کی۔
غزہ میں مویشیوں کی شدید قلت کے باعث قربانی کرنا بھی مشکل ہوگیا
ہزاروں بے گھر خاندان اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے اور جن کےگھر باقی بچے بھی ہیں وہ نقل و حرکت کی پابندیوں کے باعث عید کی تیاریوں سے محروم رہے۔ غزہ میں مویشیوں کی شدید قلت کے باعث قربانی کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے،اسرائیلی حملوں اور محاصرے کے نتیجے میں 90 فیصد سے زائد مویشی فارم تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں جب کہ زندہ جانوروں کی غزہ میں آمد روک دی گئی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق جو جانور جنگ سے پہلے 400 سے 600 ڈالر میں ملتا تھا، اب اس کی قیمت 6 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
مسلسل تیسرے سال غزہ سے کوئی حج کیلئے نہ جاسکا
اسرائیلی محاصرے کے سبب اس سال بھی غزہ سے کوئی فلسطینی حج کے لیے روانہ نہ ہوسکا۔
غزہ کی وزارت مذہبی امور کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران رفح کراسنگ کی بندش کے باعث 10 ہزار سے زائد شہری حج کی ادائیگی سے محروم رہے ہیں۔
خیال رہے کہ غزہ میں داخلے اور باہر جانے کے فیصلے جنگ سے پہلے بھی اسرائیل کے کنٹرول میں تھے۔ فروری میں مصر سے منسلک رفح کراسنگ کو جزوی طور پر کھولا گیا جو بیرونی دنیا سے واحد رابطہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے ذریعے صرف ان مریضوں کو باہر جانے کی اجازت دی گئی جنہیں بیرون ملک علاج کی ضرورت تھی۔ غزہ میں دیگر تمام سفری ضروریات، جیسے حج، تعلیم اور روزگار کے لیے سفر 2007 سے جاری اسرائیلی زمینی، فضائی اور بحری ناکہ بندی کے باعث تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
غزہ کی 23 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر افراد بے گھر ہیں اور خیمہ بستیوں یا تباہ شدہ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، جب کہ جاری جنگ میں کم از کم 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں تقریباً 900 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔


























Leave a Reply