امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کی حوالگی پر مؤقف نرم کرلیا۔
ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ افزودہ یورینیم کو یا تو فوری طور پر امریکا کے حوالے کیا جائے گا تاکہ اسے وہاں منتقل کر کے تلف کر دیا جائے۔
ترمپ نے کہاکہ یا ترجیحاً اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے تحت اُسی مقام پر یا کسی دوسرے قابلِ قبول مقام پر تباہ کیا جائے۔
امریکی صدر نےکہا کہ اس پورے عمل اور موقع پر ایٹمی توانائی کمیشن، یا اس کے مساوی ادارے، کی نگرانی اور موجودگی ہوگی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے ’کافی قریب‘ پہنچ چکے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو ’تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے‘۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں‘۔


























Leave a Reply