Preloader

روسی صدر پیوٹن نے یوکرین اور امریکہ کے ساتھ سہ فریقی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

کریملن نے بدھ کے روز بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر یوٹن، امریکا کی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کو اگلے ہی مہینے سے دوبارہ شروع کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

یہ پیش رفت امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ پیوٹن کی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے سب سے خونی تنازعے کو روکنے کے لیے امریکا کی تازہ ترین کوششوں کا حصہ ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ کے شاہی محل میں ہونے والے ان مذاکرات کا آغاز روس کی جانب سے خیر سگالی کے ایک اقدام سے ہوا جو کہ اسٹیفن ہبرڈ کی رہائی ہے۔

ہبرڈ امریکا کے ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہیں جو روس میں قید تھے اور امریکی صدر ٹرمپ نے کریملن سربراہ سے ان کی رہائی کی درخواست کی تھی۔ یہ نوواں موقع ہے جب وٹکوف نے پیوٹن سے بالمشافہ ملاقات کی ہے۔

یہ تازہ ترین بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ کی کامیاب انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اس وعدے کو دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ وہ یوکرین کی جنگ 24 گھنٹوں کے اندر ختم کر دیں گے۔

کریملن کا کہنا ہے کہ امن کے لیے یہ نئی سہ فریقی بات چیت، جو تکنیکی سطح پر ہوگی، ابوظہبی میں منعقد ہو سکتی ہے۔

اس کا مرکزی نکتہ یہ ہوگا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین اور روس کی سلامتی کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔
کریملن کے مطابق، یہ مذاکرات 10 نومبر کو یا اس کے بعد کسی بھی وقت شروع ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی آخری امن بات چیت فروری میں ہوئی تھی، اس سے قبل کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کرتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *