(21 اکتوبر 2026): روس کل بروز جمعرات 40 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل کی پہلی کھیپ امریکا بھیجنے کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کے بعد ماسکو کل امریکا کیلیے ڈیزل لے جانے والا اپنا پہلا ٹینکر روانہ کرے گا۔
روس نے ریفائنریز پر یوکرینی ڈرون حملوں سے پیدا ہونے والی مقامی قلت سے نمٹنے کیلیے ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی جو 9 اکتوبر 2026 کو ختم کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین جنگ: پیوٹن امن مذاکرات کیلیے رضامند
الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ بحری جہاز 40 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل لے کر جائے گا، ایندھن کی فراہمی سے متعلق کاغذی کارروائی تکمیل کے قریب ہے، یقیناً اس کے بعد مزید کھیپیں بھی آئیں گی، دونوں رہنماؤں (پیوٹن اور ٹرمپ) کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا، ہم اپنی استطاعت کے مطابق امریکا کی ضروریات پوری کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس فوری طور پر 3 لاکھ میٹرک ٹن، نومبر میں 5 لاکھ ٹن اور اس کے فوراً بعد 10 لاکھ ٹن ڈیزل برآمد کرے گا۔
روسی صدر پیوٹن نے بھی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے بعد عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں میں 5 سے 6 فیصد کمی آئی ہے، ڈیزل لے جانے والے پہلے روسی ٹینکرز دو سے تین دن میں روانہ ہوں گے۔
