Preloader

تہران (21 اکتوبر 2026): ایران نے شرط تکھی ہے کہ امریکا کی جانب سے منصفانہ حل کیلیے سنجیدگی کے شواہد ملے تو سفارتکاری کو ایک اور موقع دیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکا سے تنازع کے خاتمے کیلیے پُرامن حل کی تلاش میں پُرعزم ہیں جبکہ دفاع کیلیے بھی مکمل تیار ہیں، امریکا کے ساتھ منصفانہ اور باعزت معاہدہ چاہتے ہیں، واشنگٹن کو مستقل جارحیت ختم کرنے کیلیے سنجیدگی دکھانا ہوگی۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غلط اندازوں کی بنیاد پر جنگ شروع کی، امریکی حکومت کے امن کے دعوؤں پر بالکل اعتماد نہیں کیونکہ جاری مذاکرات کے دوران ایران پر بمباری کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں عراقی تیل بردار جہازوں کیلیے مخصوص راستے بنانے کی کوشش کی، عباس عراقچی

انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو 7 روزہ منصوبہ پیش کیا گیا، منصوبے کے تحت چھٹے روز آبنائے ہرمز کھولی جائے گی، ساتویں روز حتمی معاہدے کیلے مذاکرات شروع ہوں گے، آبنائے ہرمز عالمی معیشت کیلیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، قانونی طور پر گزرنے والے جہازوں کا تحفظ یقینی بنانا چاہتے ہیں، آبنائے ہرمز کی نگرانی میں اپنے تاریخی کردار پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی سے شہریوں، علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کو خطرات لاحق ہوں گے، امریکا نے سفارتکاری کے بجائے فوجی کارروائی کو ترجیح دی تو بڑی اسٹریٹجک شکست ہوگی، امریکا کی جانب سے منصفانہ حل کیلیے سنجیدگی کے شواہد ملے تو سفارتکاری کو ایک اور موقع دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *