عمر کے ساتھ ہر فرد کے دماغ میں تبدیلیاں آتی ہیں اور ذہنی افعال بھی تبدیل ہوتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ تنزلی کا شکار ہونے لگتا ہے اور اس کا نتیجہ بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔
جس طرح آپ صحت بخش غذا اور ورزش کو جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، ایسے ہی روزمرہ کی زندگی میں چند سادہ تبدیلیاں لاکر اپنے دماغ کو تیز کام کرنے، توجہ مرکوز کرنے، مضبوط یادداشت اور آئی کیو لیول میں اضافے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
جی ہاں کچھ عادات عمر بڑھنے کے ساتھ ذہن کو بھی تیز بنانے میں مدد فراہم کرتی ہیں جس سے ذہنی تنزلی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ان عادات کے ذریعے آپ عمر بڑھنے کے باوجود دماغی افعال کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
غیرملکی زبان سیکھنا
اپنی مادری زبان سے ہٹ کر ایک اور زبان سیکھنا دماغی صحت کو بہتر اور ذہانت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔
2014 میں طبی جریدے جرنل اینلز آف نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ایک اور زبان سیکھنا دماغ کے لیے چیلنج ہوتا ہے کہ وہ اسے شناخت کرے مگر ایسا کرنے سے دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں۔
کوئی بھی غیرملکی زبان سیکھنا آپ کے دماغ کے ہپوکیمپس کے حجم کو بڑھاتا ہے، یہ وہ دماغی حصہ ہے جہاں یادوں کی تشکیل ہوتی ہے جبکہ یادیں جمع بھی ہوتی ہیں۔
زیادہ پانی پینا
پانی نہ صرف جسمانی صحت کے لیے ہی بہتر نہیں بلکہ اس سے دماغ کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق انسانی دماغ کا 80 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، تو دماغی افعال کو مستحکم رکھنے کے لیے پانی کا استعمال بہت اہم ہوتا ہے۔
جسم میں پانی کی کمی سے دماغی کارکردگی سست ہوتی ہے۔
پہیلیاں اور دماغی گیمز کو مشغلہ بنانا
ایک تحقیق کے مطابق انسانی دماغ بھی مسلز کی طرح ہوتا ہے جسے فٹ رکھنے کے لیے متحرک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پہیلیاں، گیمز اور معمے آپ کے دماغ کی ورزش ثابت ہوتے ہیں اور دماغ کو تیز رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
یہ دماغی کھیل ذہنی سرگرمیوں، سوچ بچار اور یاداشت کے عمل کو متحرک کرتے ہیں۔
ورزش کو معمول بنائیں
ورزش نہ صرف جسم بلکہ دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
جسمانی طور پر فٹ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا دل بہترین اور پھیپھڑوں کی گنجائش زیادہ ہے جس کے نتیجے میں دماغ کو وافر مقدار میں آکسیجن ملتی ہے اور دماغی افعال میں بہتری آتی ہے۔
جرنل آف سائیکلوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ایروبک ورزشیں جیسے تیز رفتاری سے چہل قدمی اور دوڑنا دماغی صحت کو بہتر بنانے کے لیے بہترین ہے۔
مطالعہ کریں
مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق مطالعے کو معمول بنالینا یادداشت کو بہتر بناتا ہے کیونکہ اس سے دماغ کی اچھی ورزش ہوجاتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق مختلف اقسام کی کتابوں کا مطالعہ دماغ کو متحرک کرتا ہے اور دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں۔
اچھی نیند
جب آپ نیند کی کمی کے شکار ہوتے ہیں تو دماغ کے لیے ایک عام کام بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
نیند کی کمی کے شکار ہونے پر توجہ مرکوز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے جبکہ یادداشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تو اچھی دماغی صحت کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے نیند ضروری ہوتی ہے۔
گھر سے باہر نکلیں
فطری مناظر سے ہمارے ذہن کو سکون پہنچتا ہے اور تناؤ میں کمی آتی ہے، درحقیقت صرف کھڑکی سے باہر دیکھنے سے بھی یہ فائدہ ہو سکتا ہے۔
جب آپ گھر سے باہر وقت گزارتے ہیں تو دماغ کو روزمرہ کی مصروفیات کے دباؤ سے بچنے کا موقع ملتا ہے جس سے اس کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔
دماغ کو ایندھن فراہم کریں
پھل، سبزیاں، دالیں، مچھلی اور زیتون کے تیل جیسی مخصوص غذائیں دماغ کے لیے بہترین ہوتی ہیں۔
روزانہ ایک کپ چائے یا کافی پینے سے بھی دماغ کو فائدہ ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔


























Leave a Reply