مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث بھارت میں ایندھن بحران شدت اختیار کرگیا جس کے باعث ایک گاڑی کو 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے بھارت میں توانائی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے جس کے باعث بھارت کی سرکاری آئل کمپنیاں ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
مودی حکومت نے پیٹرول پمپ ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک صارف یا گاڑی کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر ڈیزل فروخت کریں جب کہ تجارتی صارفین کو عام ریٹیل پمپس سے ایندھن خریدنے سے روک دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے اور سپلائی میں کمی کے باعث حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ایندھن کی دستیابی کو کسی حد تک کنٹرول کیا جاسکے۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں صورتحال مزید خراب ہوئی تو نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ایشیائی ممالک بھی ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں وقتی ہیں اور صورتحال بہتر ہونے پر ان کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔


























Leave a Reply