اسلام آباد: ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سید خرم علی کا کہنا ہے کہ شہریوں کا ذاتی ڈیٹا بیرون ملک ایجنسیوں فروخت کیے جانے انکشاف ہوا ہے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے سید خرم علی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا جنوبی پنجاب سے ایک گینگ پکڑا ہے، یہ گینگ اہم شخصیات کا ڈیٹا چندہزار روپےکے عوض فروخت کر رہاتھا۔
سید خرم علی کے مطابق اب تک ڈیٹا فروخت میں ملوث 4افراد کوحراست میں لیاگیاہے ، ہمیں پتاچلاکہ مختلف اداروں کے افراد ڈیٹا لیک کےلیے تفصیلات فراہم کر رہے ہیں، ڈیٹا لیک اور ذاتی معلومات فروخت کرنے پر زیروٹالرنس پالیسی ہے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے خرم علی کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کومطلع کررہےہیں کہ ڈیٹا بیچنے پر کارروائی کی جائے، شہریوں کا ذاتی ڈیٹا بیرون ملک ایجنسیوں کوفراہم کیا جارہا ہے، ایساڈیٹا بیچاگیا جوملکی اور اہم شخصیات کی سکیورٹی سےمتعلق تھا۔
خرم علی کے مطابق این سی سی آئی اےکی اسٹیٹ بینک کےساتھ کراچی میں خصوصی کمیٹی قائم ہے، بینکوں اور شناخت کی خفیہ معلومات لیک ہونے پر مختلف گینگز کی شناخت کی، اداروں میں ذاتی معلومات لیک ہونےمیں وہ افراد ملوث ہیں جن کوڈیٹا بیس تک رسائی ہے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ ڈیٹا بیچنےمیں ملوث سرکاری افسران کےخلاف کارروائی جاری ہے تاہم سائبر کرائم سےبچنےکےلیےآگہی بہت ضروری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مومنہ اقبال کیس کو لاہور آفس دیکھ رہا ہے، یہ کیس مہینوں نہیں دنوں میں مکمل ہوگا۔
اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ مومنہ اقبال کا الزام ہےکہ این سی سی آئی اے نے تاخیر سے کارروائی کاآغازکیا؟ جس پر سید خرم علی نے جواب دیا کہ مومنہ اقبال کیس میں این سی سی آئی اے نےکوئی تاخیرنہیں کی، مومنہ اقبال خودکراچی میں تھیں جیسےہی لاہور آئیں کارروائی کا آغازہوگیا۔


























Leave a Reply