ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع خوبصورت شہر استنبول جدید دور کے ساتھ سینکڑوں سالوں کی تاریخ کو بھی محفوظ رکھتاہے۔
استنبول شہر کے درمیان معروف آبنائے گولڈن ہارن کے کنارے وہاں آباد بلغارین آرتھوڈوکس عیسائیوں نے اپنی عبادت گاہ کومحفوظ بنانے کے لیے سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبدل عزیز سے درخواست کی۔
سلطان نے بلغاری عیسائیوں کے لیے ضلع بلاد میں گولڈن ہارن کے کنارے پرانے چرچ کو ایک انوکھا چرچ بنانے کے فیصلہ کیا۔
استنبول میں سیاحتی گائیڈ یامور نے بتایا کہ سلطان عبدالعزیز کے حکم پر اس مقصد کے لیے 1870 میں فرمان جاری کیا گیا اورنقشہ تیار کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ویانا اور آسٹریا سے لوہے کا انتظام کیا گیا اور بحیرہ اسود کے راستے استنبول لایا گیا۔
خوبصورت ڈیزائن میں تیار کردہ سینٹ اسٹیفن چرچ کے بڑے ٹکڑوں کو ویانا سے ترکی لایا گیا اور استنبول کے بلاد ضلع میں گولڈن ہارن کے کنارے لوہے کے تیار کردہ ان ٹکڑوں کو جوڑ کر منفرد انداز سے گرجا گھر تعمیر کیا گیا۔
چرچ کی محراب کو سینٹ اسٹیفن چرچ فاؤنڈیشن بلغاریہ کے تعاون سے کمیونٹی کی جانب عطیات دے کر سونے کا پانی چڑھایا گیا۔
گرجا گھر کی تزئین و آرائش کے سینٹ اسٹیفن آرتھوڈوکس چرچ کی افتتاحی تقریب میں سال 2018 میں ہوئی جس میں ترک صدر رجب طیب اردگان اور بلغاریہ کے وزیراعظم بایوک باریسوو نے شرکت کی۔
انیسویں صدی کے اس شاہکار لوہے کے گرجا گھرکو دنیا میں دور حاضر میں لوہے سے تیار کردہ واحد بلغارین آرتھوڈوکس چرچ کی حیثیت حاصل ہے۔


























Leave a Reply