چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق چین کے جے-10 سی ای (J-10CE) لڑاکا طیاروں نے فرضی جنگ میں یورپی لڑاکا طیاروں یوروفائٹر ٹائفون کو 0-9 سے شکست دی تھی۔
سی سی ٹی وی کے مطابق یہ فرضی جنگی مشقیں 2024 میں ہوئی تھی جس میں جے-10 سی ای طیاروں نے یورو فائٹر ٹائفون کے خلاف تمام 9 مقابلے جیت لیے تھے۔ جے-10 سی ای طیاروں نے یورپ کے کثیر المقاصد جنگی طیارے کو ہر مقابلے میں شکست دی تھی۔
چینی اخبار ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق سی سی ٹی وی نے اس فرضی جنگ کی مکمل تفصیلات یا شریک ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے، تاہم پاکستانی میڈیا کے مطابق یہ فرضی یا مصنوعی جنگ جنوری 2024 میں قطر میں ہونے والی “زلزال-II” مشترکہ فضائی مشق کے دوران ہوئی تھی، جہاں پاکستان کے جے-10 سی ای طیاروں نے قطر کی فضائیہ کے یوروفائٹر ٹائفون طیاروں کا مقابلہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق جے-10 سی ای نےقریب فاصلے کی فضائی لڑائی (ڈاگ فائٹ) کے تمام 5 مقابلے جیتے، جب کہ نظروں سے اوجھل (بی وی آر) ہونے والے 4 مزید فرضی مقابلوں میں بھی کامیابی حاصل کی۔
چینی اخبار کے مطابق خلیجی ممالک کے متعدد میڈیا اداروں نے بھی ایسے نتائج رپورٹ کیے جو سی سی ٹی وی کی معلومات سے مطابقت رکھتے ہیں۔
چینی نشریاتی ادارے کی جانب سے یہ انکشاف جے-10 سی ای کی پہلی حقیقی جنگی کارروائی (معرکہ حق) کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے۔گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے جے-10 سی ای طیاروں نے بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے تھے، جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل بھی شامل تھے۔
خیال رہے کہ چین کا جے-10 طیارہ 1980 کی دہائی میں چینگڈو ائیرکرافٹ کارپوریشن نے تیار کیا تھا۔ یہ ایک سنگل انجن، کثیر المقاصد اور تیسری نسل کا لڑاکا طیارہ تھا۔2017 میں جے-10 سی متعارف کرایا گیا، جو 4.5 جنریشن کا لڑاکا طیارہ ہے اور چین کی دفاعی صنعت کی نمایاں مصنوعات میں شمار ہوتا ہے۔
اس میں جدید انجن، اے ای ایس اے ریڈار، پی ایل-10 اور پی ایل-15 جیسے فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل نصب ہیں۔
اس کا ایکسپورٹ ورژن جے-10 سی ای پہلی بار 2020 میں عالمی مارکیٹ میں پیش کیا گیا، تاہم پاکستان چین کے علاوہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس جے-10 سی موجود ہے، پاکستان 36 جے-10 سی ای طیارے خرید چکا ہے، جن میں سے تقریباً 20 پاک فضائیہ میں شامل ہوچکے ہیں، جب کہ تقریباً 250 پی ایل-15 میزائل بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب یوروفائٹر ٹائفون برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا اور 2007 سے مختلف یورپی ممالک کی فضائیہ میں شامل ہے۔ قطر کے پاس اس کا زیادہ جدید ورژن موجود ہے۔
امریکی دفاعی جریدے ملٹری واچ کے مطابق سی سی ٹی وی کی یہ معلومات جے-10 سی کی جنگی صلاحیتوں کی ایک نایاب جھلک پیش کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ چین کی جدید لڑاکا طیاروں کی ٹیکنالوجی کافی پختہ ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق قطر کی ان مشقوں کے نتائج سے عالمی اسلحہ مارکیٹ میں یوروفائٹر ٹائفون کی پوزیشن مزید دباؤ میں آسکتی ہے، کیونکہ کئی ممالک اس پر انحصار کم کر رہے ہیں۔
چینی فوجی تجزیہ کار سونگ ژونگ پنگ کے مطابق ان نتائج کے منظر عام پر آنے سے جے-10 سی ای کی برآمدات کو بڑا فائدہ ہوگا، تاہم بہت سے ممالک کے جغرافیائی اور سیاسی حالات ایسے ہیں کہ جے-10 سی ای خریدنے کے لیے انہیں کافی جرات درکار ہوگی۔


























Leave a Reply