فيفا ورلڈکپ کا 23 واں ایڈیشن 11 جون 2026 سے شروع ہو نے جا رہا ہے، ایونٹ 19 جولائی تک کھیلا جائے گا،فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا،جب بیک وقت 3 ممالک ( امریکا، میکسیکو ، کینیڈا) اس ایونٹ کے میزبان ہوں گے۔
2002 میں جاپان اور جنوبی کوریا نے مشترکہ طور پر فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی۔ میکسیکو 1970 اور 1986 میں بھی ورلڈ کپ کی میزبانی کر چکا ہے، یہ تیسرا موقع ہوگا ،جب وہ ورلڈ کپ کا میزبان ہے،لیکن اس بار اس کو تنہا میزبانی کا موقع نہیں ملا رہا۔
پہلی بار کینیڈا اور 1994 ورلڈ کپ کا میزبان امریکا اس کے ہمراہ مشترکہ میزبان ہیں ۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پہلی بار 48 ٹیمیں ایکشن میں ہوں گی۔1930 میں یوراگوئے نے پہلے ورلڈ کپ کی میزبانی کے فرائض انجام دیے،جہاں 13 ٹیموں کے مقابلے میں میزبان ملک نے فائنل میں ارجنٹینا کو شکست دی۔
1998 فرانس ورلڈ کپ میں 32 ٹیموں کو شامل کیا گیا،البتہ 2013 میں یو ایفا کے صدر فرانس کے سابق فٹ بالر مشل پلاٹینی نے ٹیموں کی تعداد 48 کر نے کی تجویز پیش کی۔جس کی تائید 2016 میں فیفا کے صدر جیا نی انفیٹونیو نے کی۔
10 جنوری 2017 کو فیفا ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 48 کر نے کے فیصلے کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا گیا۔14 مارچ 2023 کو فیفا کونسل میں طے ہوا کہ 48 ٹیموں کو 4 ٹیموں کے 12 گروپس میں تقسیم کیا جائیگا۔
ہر گروپ کی 2 سر فہرست ٹیمیں اگلے مرحلے میں شامل ہوں گی،جبکہ دوسرے مرحلے کی 8 ٹیموں کا انتخاب تیسرے نمبر پر آنے والی بہترین ٹیموں کی بنیاد پر ہوگا۔
فيفا ورلڈ کپ 2026 کا دورانیہ 39 دنوں پر محیط ہوگا،جہاں فائنل تک پہنچنے والی ٹیموں کو 8 میچ کھیلنے کا موقع میسر ہوگا۔
امریکا،میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلے جانیوالے فٹبال ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے جائیں گے۔ ایونٹ کا افتتاحی میچ میکسیکو سٹی میں میزبان میکسیکو اور جنوبی افریقا کے درمیان ہوگا۔فیفا ورلڈ کپ کے میچ امریکا کے 11، میکسیکو کے 3 اور کینیڈ اکے 2 شہروں میں منعقد ہوں گے۔
فيفا ورلڈ کپ کے گروپ “اے” میں میزبان میکسیکو ،جنوبی کوریا،جنوبی افریقا اور چیک ریبلک ہیں۔
گروپ “بی” میں میزبان کینیڈا،بوسنیا ہرزوگوینا،قطر اور سوئٹزر لینڈ کو رکھا گیا ہے۔گروپ “سی ” میں 5 مرتبہ کی چیمپئن برازیل ،مراکش ،ہیٹی اور اسکاٹ لینڈ کی ٹیمیں ہیں ۔ گروپ “ڈی” میں میزبان امریکا،پیراگوئے،آسٹریلیا اور ترکیہ ہیں ۔گروپ “ای ” میں فیفا درجہ بندی میں دسویں نمبر پر براجمان جرمنی ،آئیوری کوسٹ ،ایکواڈرو اور کیورا ساو ہیں ۔
گروپ “ایف” میں فیفا درجہ بندی میں ساتویں نمبر کی ٹیم نیدر لینڈز کا مقابلہ جاپان ،سوئیڈن اور تیونس کیساتھ ہوگا۔گروپ “جی” نگاہوں کا مرکز ہوگا،جہاں مشرق وسطی جنگ میں شامل ایران کیساتھ ،نیوزی لینڈ ،مصر اور بیلجئیم ایکشن میں ہوں گے۔گروپ “ایچ” میں فیفا رینکنگ میں دوسرے نمبر پر موجود اسپین جو 2010 جنوبی افریقا ورلڈ کپ کا چیمپئن ہے،اس کا سامنا سعودی عرب یوراگوئے اور کیپ ورڈے سے ہے۔گروپ “آئی ” میں عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر کی فرانس کا مقابلہ سینیگال ،عراق اور ناروے سے ہے۔
گروپ “جے” میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا ،الجیریا،آسٹریا، اور اردن کی ٹیمیں ہیں ،گروپ “کے” میں مشہور زمانہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال ،ازبکستان ،کولمبیا،اور ڈیموکریٹک ریبپلک آف کانگو شامل ہیں ،جبکہ 12 گروپس پرمشتمل ایونٹ کے آخری گروپ “ایل” میں 1966 ورلڈ کپ کی فاتح انگلینڈ کا سامنا کرویشیا،گھانا اور پانامہ سے ہے۔
فيفا کی عالمی درجہ بندی میں اس وقت فرانس پہلے ،اسپین دوسرے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا تیسرے انگلینڈ چوتھے ، پرتگال پانچویں برازیل چھٹے نیدر لینڈز ساتویں 2030 ورلڈ کپ کا مشترکہ میزبان پرتگال آٹھویں بیلجئیم نویں اور جر منی دسویں نمبر پر موجود ہے۔
فٹبال ماہرین کے خیال میں فیفا کی درجہ بندی کے مطابق ہی ٹیموں کا ورلڈ کپ میں آگے بڑھنے کا امکان موجود ہوگا۔
فیفا کی عالمی درجہ بندی کی ابتدائی10 پوزیشن پر موجود تمام ٹیمیں تو ورلڈ کپ میں ایکشن میں ہیں ،البتہ 12 ویں نمبر پر موجود اٹلی کی فٹبال ٹیم اس بار بھی ورلڈ کپ نہیں کھیل رہی۔ 1934 1938 1982 اور آخری بار 2006 میں فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے والی اٹلی کی فٹبال ٹیم 2018 2022 کے بعد یہ مسلسل تیسرا موقع ہے جب فیفا ورلڈ کپ کی دوڑ میں شامل نہیں ہے ۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply