ماہرین کے مطابق ایران کے پاس ایسے کئی آپشنز موجود ہیں جن کے ذریعے وہ امریکی ناکا بندی کے باوجود اپنی تیل کی پیداوار کو فوری طور پر متاثر ہونے سے بچا سکتا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق تیل ایران کی معیشت کی بنیاد ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایرانی تیل کی برآمدات روکنے سے اس کی پیداوار بند ہو جائے گی اور ایران کو معاہدے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اضافی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ کچھ ٹینکرز کو ناکا بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزارنے میں بھی کامیاب ہو رہا ہے جس کے باعث وہ اس دباؤ کا کچھ عرصہ مزید مقابلہ کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری تعطل صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک توانائی ڈیٹا اینالیٹکس کمپنی چیف اینالسٹ کار اینٹون ہالف کے مطابق ’ایران کو فوری طور پر بڑے پیمانے پر تیل کی پیداوار بند کرنے کا خطرہ درپیش نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ’کورونا بحران کے دوران تیل ذخیرہ کرنے کے تجربے، دیگر تنصیبات میں دستیاب جگہ اور گزشتہ 10 برسوں میں متبادل ذخیرہ اور برآمدی سہولیات بڑھانے کی کوششوں‘ کا فائدہ حاصل ہے۔
ایگزیوس نے ایک اور تجزیہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 20 اپریل تک ایران کے پاس 20 ویری لارج کروڈ کیریئرز (VLCCs) موجود تھے، جن میں سے ہر ایک تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کر سکتا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق ان جہازوں کو باآسانی فلوٹنگ اسٹوریج کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور ایران تقریباً 2 ماہ تک پیداوار جاری رکھ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 20 اپریل تک ایران کے پاس زمین پر تیل ذخیرہ کرنے کی بھی اضافی گنجائش موجود تھی جو تقریباً تین ہفتوں کی پیداوار کے برابر ہے۔


























Leave a Reply