فلسطینی صدر محمود عباس کے حامیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے کچھ علاقوں میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں فتح حاصل کرلی۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ نسل کشی کے اثرات کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا۔
تقریباً دو دہائیوں بعد پہلی بار محصور غزہ پٹی کے ایک شہر دیرالبلح کو بھی انتخابی عمل میں شامل کیا گیا۔
دیرالبلح کو شامل کرنےکا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔
ہفتے کو ہونے والا یہ الیکشن 2006 کے بعد غزہ میں کسی بھی نوعیت کا پہلا انتخابی عمل تھا۔
سینٹرل الیکشن کمیشن فلسطین کے مطابق الیکشن میں 3,773 امیدوار میدان میں تھے جن میں خواتین کی نمایاں شرکت بھی شامل تھی۔


























Leave a Reply