امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 2 سال پہلے بھی قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی جس میں گولی ان کے کان کو چھو کر گزر گئی، صرف 64 دن بعد ایک اور حملہ ہوا جب ٹرمپ فلوریڈا میں اپنے گالف کورس پر گالف کھیل رہے تھے، واشنگٹن میں صدر ٹرمپ پر تیسرے حملےکی کوشش نے ان کی سکیورٹی پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب میں موجودگی کے دوران قریب ہی فائرنگ کا واقعہ امریکی صدر کے لیے سکیورٹی پلان پرسوالیہ نشان بن گیا ہے۔
اخبار کے مطابق واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں امریکی صدر کی شرکت کے باوجود ٹاپ سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ سکیورٹی پلان سے واقف حکام نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تقریب کے لیے دیگر اعلیٰ سطح کی تقریبات کے مقابلے میں کم درجے کی سکیورٹی فراہم کی، حالانکہ اس تقریب میں صدر اور کابینہ کے کئی اہم ارکان بھی شریک تھے۔
رپورٹ کے مطابق وقوعہ کے روز ہلٹن ہوٹل میں مہمانوں اور عام لوگوں کو نسبتاً آسانی سے داخل ہونے کی اجازت تھی، مہمان دعوت نامہ دکھا کر مرکزی فلور سے دو منزل نیچے بال روم میں داخل ہوتے رہے۔
واقعے کے چشم دید گواہوں کا کہنا ہےکہ صدار ٹرمپ کے عشائیے کے ٹکٹوں پر صرف میز نمبر درج تھے، مہمانوں کے اصل نام نہیں تھے، ہوٹل میں داخل ہونے والے افراد کی کسی بھی مرحلے پر شناخت کی جانچ نہیں کی گئی، تاہم کچھ سکیورٹی ماہرین کے خیال میں حملہ آور کا بال روم کے اندر داخل نہ ہونا بہتر سکیورٹی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق واقعے کے بعد امریکی انتظامیہ نے صدر کے سکیورٹی انتظامات کی سخت اسکروٹنی (جانچ پڑتال) شروع کردی ہے۔
واقعے کے بعد امریکی حکام صدر اور دیگر اہم شخصیات کی حفاظت کے انتظامات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ اس واقعے نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ وہ شخص اس تقریب کے اتنا قریب کیسے پہنچ گیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کابینہ کے اراکین اور دیگر قانون ساز شریک تھے۔
امریکی سکیورٹی ماہرین کے مطابق، سیکرٹ سروس کو بڑے ہوٹلوں کو بہتر انداز میں محفوظ بنانے کے طریقے تلاش کرنا ہوں گے، چاہے اس سے ہوٹل کے مہمانوں اور انتظامیہ کو کچھ مشکلات پیش آئیں۔
رپورٹ کے مطابق اس ہوٹل میں سابق امریکی صدر ریگن پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا، حملے میں ریگن زخمی ہوگئے تھے اور گولی ان کے پھیپھڑے میں لگی تھی لیکن وہ جلد صحت یاب ہوگئے تھے تاہم گولی لگنے سے صدر کے پریس سیکرٹری شدید زخمی ہوئے تھے اور عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ریگن پر حملےکے واقعے کے بعد سکیورٹی میں تبدیلیاں کی گئیں تھیں، جن میں صدر کے لیے ایک محفوظ داخلی راستہ بنانا بھی شامل تھا۔


























Leave a Reply