صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے لیے نئی فوجی مالی امداد روکنے کے باعث امریکی دفاعی اخراجات میں 7.5 فیصد کمی کے باوجود سال 2025 میں عالمی دفاعی اخراجات میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں عالمی دفاعی اخراجات بڑھ کر 2 ہزار 887 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو مسلسل 11ویں سال اضافہ ہے۔
عالمی جی ڈی پی کے تناسب سے یہ اخراجات جی ڈی پی کا 2.5 فیصد ہیں جو 2009 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی بحرانوں اور کئی ممالک کے طویل المدتی دفاعی اہداف کے باعث یہ اضافہ 2026 اور اس کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے ممالک میں امریکا، چین اور روس شامل ہیں جن کے اخراجات مجموعی طور پر ایک ہزار 471 ارب ڈالر یا عالمی اخراجات کا 51 فیصد بنتے ہیں۔
امریکی دفاعی اخراجات 2025 میں کم ہو کر 954 ارب ڈالر رہ گئے جس کی بڑی وجہ یوکرین کے لیے نئی مالی امداد کی منظوری نہ ملنا رہی۔ گزشتہ تین برسوں میں امریکا نے یوکرین کو 127 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں دفاعی اخراجات میں یہ کمی عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ 2026 کے لیے امریکی کانگریس کا منظور شدہ دفاعی بجٹ ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور 2027 میں یہ 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ یورپ میں 14 فیصد اضافہ ہے، جہاں اخراجات 864 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے دفاعی اخراجات 4.9 فیصد کم ہو کر 48.3 ارب ڈالر رہ گئے کیونکہ 2025 میں غزہ جنگ ختم ہو گئی جبکہ ایران کے اخراجات مسلسل دوسرے سال کم ہو کر 5.6 فیصد کمی کے ساتھ 7.4 ارب ڈالر رہ گئے۔


























Leave a Reply