Preloader

متحدہ ہندوستان کی تقسیم کا اعلان، انگریز راج اور اپنے حقوق سے متعلق ہندوستان میں‌ بیداری، سیاسی شعور اور سماجی و مذہبی سوچ نے انفرادی سطح‌ پر ہر فرد کو کسی نہ کسی طرح ضرور متاثر کیا تھا خواہ ان کا تعلق سماج کے کسی بھی طبقے سے رہا ہو۔ پروفیسر احمد حسن دانی بھی انہی میں‌ سے ایک تھے جو بٹوارے کے بعد پاکستان آئے اور یہاں بھی بحیثیت مؤرخ، ماہر بشریات اور آثار قدیمہ اپنا سفر جاری رکھا جو تقسیم سے قبل بھی ان کی پہچان تھا۔

تاریخ و ثقافت پر مبنی علمی و تحقیقی کتابوں‌ کے علاوہ احمد حسن دانی نے اپنی ایک آپ بیتی بھی لکھی تھی جس سے یہ اقتباس پیشِ‌ خدمت ہے۔ یہ اس زمانہ کے مسلمانوں‌ اور ہندوؤں کی بٹوارے سے متعلق سوچ اور ایک دوسرے کے لیے خیالات و احساسات کو بیان کرتا ہے، جس میں‌ مصنّف نے اس حق تلفی اور ناانصافی کی طرف اشارہ کیا ہے جس نے قیامِ پاکستان کو بنیاد فراہم کی۔ ملاحظہ کیجیے:

ہندوستان میں سیاست زور پکڑنے لگی۔ ہندو مسلم فساد بڑھنے لگے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سیکڑوں برسوں سے اکٹھے رہنے والے لوگ کیوں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ کیا انگریز انہیں لڑاتے ہیں تاکہ اپنی پالیسی Divide & Rule کے تحت لوگوں میں تفریق پیدا کریں اور ان پر حکومت کریں۔ شاید یہ بھی ممکنات میں ہو لیکن اصلیت یہ نظر نہیں آتی۔ میں نے جیسے پہلے باب میں لکھا ہے ہندو اور مسلمان میں سماجی تفرقات بہت گہرے تھے۔ اس کا ذکر بھی آچکا ہے کہ تہذیبی فرق بھی کوئی نئی چیز نہں تھی۔ اگر ان کو تاریخی پہلو سے دیکھیں تو ہندو اور مسلمان کا نقطۂ نظر بالکل جدا جدا معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہیں جو ہندو اور مسلمان میں دشمنی کا باعث ہو سکتی تھیں اور چونکہ یہ عام آدمی کی زندگی کے تجربہ کی بات ہے، ان میں جوش پیدا کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ جب چاہے انگریز اس طرح کی حرکت کسی کے ذریعہ کر سکتا تھا لیکن یہ سب اصل مرض کی علامتیں تھیں۔

جب میں پنجاب جاتا تو میری بڑی بہن کے شوہر خواجہ عبد اللطیف جو نماز کے پابند اور بہت پرہیز گار تھے، اکثر مجھے وہاں کا حال سناتے اور مجھے کہتے کہ دیکھو یہاں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی دکان سے سودا نہیں خریدتے۔ یہاں کے ہندو کھتری بڑے بڑے تاجر ہیں۔ مسلمانوں کا خون چوستے ہیں۔ مسلمان جو گاؤں میں کاشت کرتا ہے ان کو ادھار دے کر انہیں غریب سے غریب تر بتا دیتا ہے۔ اب اگر کوئی پشاور جائے تو ہاں بھی یہی حال پاتا ہے۔ وہاں بھی سب بڑے تاجر ہندو ہیں اور پٹھانوں کو قرص دے کر ان کا خون چوستے ہیں۔ یہی حالت کراچی میں ہے، ہماری اصلی لڑائی ہندوؤں سے اقتصادی ہے، جب تک ہم یہاں پاکستان نہیں بنا لیتے اور ہندو یہاں سے چلے نہیں جاتے ہماری نجات نہیں ہوسکتی۔

میں ہمیشہ ان سے کہتا کہ آپ کیوں نہیں محنت کرتے۔ آپ کیوں نہیں بڑے بڑے تجارتی ہوتے۔ کیوں آپ ان سے ادھار لیتے ہیں، ان کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ پھر وہ مذہبی تفریق کی طرف آجاتے اور وہ وہی نعرہ لگاتے جو گلی کوچوں میں سنا کرتا تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ یہ جوش دلانے والے نعرے مسلمانوں کو متحد کرنے میں کام آتے۔ میں بھی بھی سوچتا کہ نعرہ اپنی جگہ، جو اصل بات ہے وہ سماجی، تہذیبی، تاریخی اور اقتصادی تفرقات ہیں۔ ان میں تو انگریز کا کوئی ہاتھ نہیں۔ پھر ہم انگریز کی شکایت کیوں کرتے ہیں۔

اس کے بعد جب میری اپنی ملازمت کی باری آئی تو شملہ میں انٹرویو کے لیے مجھے اور دوسرے مسلم ساتھی ولی اسد خان کو مسلم اقلیت کی وجہ سے ملازمت ملی۔ اس وجہ سے خان صاحب کو ملازمت تو میری سمجھ میں آگیا، لیکن ان کا اپنا علمی پس منظر اس قابل نہ تھا کہ وہ عام امید واروں کے مقابلہ میں آجائے لیکن میں نے تو ہندو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی اور وہاں سب کے مقابلہ میں اوّل آیا تھا۔ اب کیوں میں اقلیتوں میں شمار ہو گیا، مسلمانوں کی یہ اقلیتی کیفیت کیسے بنی، کیا مسلمانوں کو برابری کا حق نہیں مل سکتا؟ کیا ہمیشہ مسلمان اقلیت میں رہا ہے، اگر یہی حال تھا تو اس نے سیکڑوں برسوں تک ہندوستان میں حکومت کیسے کی؟ اگر وہ حکمران طبقے میں شامل تھا تو آج وہ کیسے پست قوم بن گیا؟ یہ تاریخی تضاد مجھے ہر وقت پریشان رکھتا۔ میں کوئی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کبھی قوموں کے عروج و زوال کی طرف نظر دوڑاتا، پھر سوچتا کہ مسلمانوں کی اپنے علم میں تہذیب و قابلیت میں ہندوؤں کے مقابلہ میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ پھر وہ کیسے پست قرار دیا جانے لگا۔ ہو نہ ہو یہ کوئی سیاسی چال ہے جس کے ذمہ دار ضرور انگریز ہوں گے۔ دراصل ہم ایک نئے سیاسی دائرے میں کام کر رہے تھے۔ یہ دائرہ انگریز سرکار نے تیار کیا تھا جس میں سب سے اونچا درجہ ان کو حاصل تھا اور باقی ماندہ یہاں کے رہنے والے لوگ اپنا کردار و مقام خود ڈھونڈ رہے تھے اور بتا رہے تھے، یہ سیاسی دائرہ وہ تھا جسے ہندوستان میں انگریزوں نے رائج کیا۔ اس دائرے کے اندر اور انہیں کے نافذ کردہ قاعدے و قوانین میں رہتے ہوئے ہمیں زندہ رہنا تھا۔ اس دائرہ میں ہمیں نمبر کے حساب سے اقلیت بنا رکھا تھا۔ میں اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا اور یہی سوچتا رہا کہ اتنی محنت کے باوجود میں ہمیشہ کے لیے اقلیت میں شمار ہو گیا۔ اتنے سال حکومت کرنے کے بعد بھی اور ہندوستان کو زمانۂ وسطی کی اعلیٰ ترین تہذیب سے نوازنے کے باوجود آج مسلمان اقلیت میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک ایسی سیاسی شکست تھی جو میری اپنی ذات ہی قبول نہیں کرتی تھی اور جب میں خود اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا تو اور بہت سے مسلمان خواہ وہ تعلیم یافتہ ہوں یا غیر تعلیم یافتہ وہ کس طرح اسے قبول کر سکتے تھے۔ یہی تھی بنیاد مسلمانوں کی سیاسی زندگی کے ابھرنے کی۔ ان خیالات نے میری آنکھوں کو کھول دیا اور میرے سامنے وہ سارے واقعات تیرنے لگے جو سرحدی علاقوں میں رونما ہوتے رہے۔ ان علاقوں میں تو قبائلی لوگوں نے انگریزوں کو قبول ہی نہیں کیا، کیونکہ وہ انگریزوں کے بنائے ہوئے سیاسی دائرہ میں آنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے وہ اپنی آزادی کی لڑائی ہمیشہ لڑتے رہے ہیں۔ انہوں نے آزادی کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا۔

اس کے برعکس ہندوستان میں مسلمان انگریزوں کے بنائے ہوئے سیاسی جال میں پھنس گئے۔ اب اس اقلیتی حالت سے نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا، سوائے اس کے کہ ہم مسلمان بھی اپنے آپ کو اسی سیاسی اصطلاح میں پیش کریں یا پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر اقلیت کی مہر ثبت کرا کر زندگی گزار دیں۔ یا پھر اپنے آپ کو برابر سمجھ کر کوئی اور راستہ اختیار کریں۔ یہ بھی صرف انگریزوں کی اصطلاح میں ہو سکتا تھا۔ یہ تھی بنیاد مسلم قومیت کی جس کی وجہ سے ہم مسلمان اپنے آپ کو یکجا کر سکتے تھے اور اپنے لیے ایک مقام پیدا کر سکتے تھے۔ اپنا تشخص بحال کر سکتے تھے۔ کیا اس کے ذمہ دار انگریز یا انگریزی تعلیم نہیں؟

اسلام میں قومیت کے معنی بالکل ہی مختلف ہیں۔ یہاں تو ہمیں انگریزوں کے لفظوں میں اظہار کرنا تھا۔ یہ تھی بنیاد سیاسی اختلاف کی جس نے مسلمانوں کو ہندوؤں سے علیحدہ کیا اور انہیں اپنے وطن پاکستان کے لیے لڑنے پر مجبور کیا۔ انگریزوں نے جال بچھایا اور ہندوؤں نے ہمیں اس نئے راستہ پر چلنے کے لیے مجبور کیا۔

یہ سب کچھ جاننے کے باوجود میں نے کبھی کسی ہندو شخص سے دشمنی نہیں کی اور یہی خیال کرتا رہا کہ ہم اس محدود دائرے سے نکل کر انسانیت کی وسیع فضا میں آزادی کا سانس لیں گے۔ اسی دوران میں پہلے دہلی آفس میں کام کرتا رہا اور پھر میرا تبادلہ آگرہ ہو گیا۔ دہلی میں میری ساری توجہ مسلمانوں کے فنِ تعمیر پر تھی۔ وہاں کی بے شمار عمارتوں کا مطالعہ کرتا اور انہیں سمجھنے کی کوشش کرتا۔ جب میرا تبادلہ آگرہ ہوا تو مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اب وہاں کی عمارتوں کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس طرح مجھے مسلم فنِ تعمیر کا بہت اچھا تجربہ ہو جائے گا۔ میں آگرہ پہنچا اور وہاں اپنے بڑے افسر مسٹر مادھو سوروپ وتس کو اپنے آنے کی رپورٹ دے دی۔ وہاں کام کرنا شروع کر دیا۔

میں اکثر وتس صاحب کے گھر جاتا۔ ان کے لڑکوں سے اور بیوی سے ملتا اور وہ بہت خوش ہوتے۔ میرے سنسکرت علم کی وجہ سے وتس صاحب بھی میری عزت کرتے اور گو کہ ان کی فیملی قدامت پسند تھی مگر مجھے کبھی یہ احساس نہیں دلایا کہ مسلم ہونے کے باعث میں ان کے گھر سے خارج ہوں۔ مجھے بھی ان کے لیے بڑا احترام تھا اور ہم میں نہ کبھی رنجش اور نہ کبھی نا انصافی پیدا ہوئی۔ اس وقت کی سیاست پر بھی ہم بحث کرتے اور ایک دوسرے سے اختلاف رائے ہوتا لیکن کبھی دل شکنی نہیں ہوتی۔ ہندو مسلم فساد سے متعلق بھی ہم بحث کرتے اور کبھی غور کرتے کہ آخر کیوں آپس میں مسلم بیٹوں اور ہندو جاٹوں کی خانہ جنگی ہوتی ہے۔ وہ بار بار مجھے سناتے کہ یہ دونوں قوم ایک ہی شاخ سے نکلے ہیں لیکن اب دیکھو ایک گروہ ہندو ہے اور دوسرا مسلمان۔ آپس کی لڑائی نے گاؤں کے گاؤں تباہ کر دیے ہیں۔ مکان نذر آتش کیے جارہے ہیں۔ عورتوں کو اٹھا کر لے گئے۔ بچوں کو چیر پھاڑ کر پھینک دیا۔ ہجوم کا ہجوم آتا ہے اور ان کے پاس ایسے ہتھیار ہیں کہ دوسروں کے گلوں کو، ہاتھوں کو اور ٹانگوں کو کاٹتے چلے جاتے ہیں۔ گھروں کو آگ لگا دیتے ہیں اور بچوں کو اس میں جھونک دیتے ہیں۔ کیا یہ انسانیت ہے؟ وحشی سے بھی زیادہ بد تر حرکت ہے۔ یہ حرکت کسی مہذب قوم کی نشانی نہیں۔ یہ صرف ہندو مسلم فساد نہیں بلکہ یہ کھلم کھلا خانہ جنگی ہے جس میں یہ کوشش کی جارہی ہے کہ دوسری قوم کا نام و نشان ہی نہ رہے۔ ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے۔ ہم تہذیب یافتہ لوگوں کی حدود سے باہر نکل گئے ہیں۔

یہ احساس ہم دونوں کو ہوتا، پھر بھی ہماری ہمدردی جدا جدا تھی۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کی شکایت کرتے اور میں ہندوؤں کی طرف اشارہ کرتا۔ گو کہ ہم دونوں تاریخ اور تہذیب کے طالب علم تھے۔ وتس صاحب نے ہڑپہ کی تہذیب پر ایک مدیرانہ کتاب لکھی تھی اور میں نے اپنی زندگی میں انسان کو مختلف ادوار سے دیکھا تھا۔ پھر بھی یہ جدا جدا احساس کیوں۔ کیا ہم ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھتے نہیں تھے۔ وہ بھی سنسکرت جانتے تھے، ہندی بھی پڑھتے تھے اور پنجابی بھی بولتے تھے۔ اس کے علاوہ اس سارے شہر گل میں جو مسلم عمارتی یادگاریں تھیں ان کا مطالعہ بھی کرتے تھے اور ان کی حفاظت کا کام بھی کرتے تھے۔ وہی کام میں بھی کرتا تھا بلکہ اس زمانے میں وتس صاحب دیو گڑھ مندر پر کام کر رہے تھے۔ وہاں پتھروں پر کندہ بہت ساری مورتیاں اور ان کی تشکیل ہندو کتابوں سے لی گئی تھیں۔ مجھے کام سونپا گیا تھا کہ میں رامائن، مہا بھارت اور پرانوں کو پڑھ کر ان کے حوالے دریافت کروں۔ چونکہ میں ان کتابوں کو پہلے ہی پڑھ چکا تھا یہ میرے لیے مشکل نہیں تھا، اس طرح ہم دونوں کا کام ایک دوسرے کے کام پر مبنی تھا۔ پھر بھی ہمارا نقطۂ نظر مختلف تھا۔ ہمارے احساسات جدا جدا تھے۔ ہمارے طور طریقہ الگ الگ تھے۔ ہمارا کھانا پینا مختلف۔ وہ سبزی اور دال کھاتے اور میں گوشت اور انڈہ۔ ہم دونوں دفتر میں انگریزی پوشاک پہنتے تھے لیکن گھر آ کر وہ دھوتی باندھتے تھے اور میں پائجامہ۔ جب کبھی ہم فتح پور سیکری کے کام کو دیکھنے جاتے تو وہاں کا مسلم خانساماں میرے لیے الگ کھانا پکاتا اور ان کے لیے الگ۔ میں مسلم عمارتوں پر تیموریہ فنِ تعمیر کا اثر تلاش کرتا اور وہ کہتے کہ دیکھوا اکبر کی عمارتوں میں کتنا اثر ہندو فنِ تعمیر کا ہے۔ اس طرح کی بہت ساری باتیں کرتے اور ہم اختلافِ رائے رکھ کر بھی خوش ہوتے۔ کیا یہ خیالات محض عالمانہ تھے یا ان کا کوئی اثر ہماری روزمرہ کی زندگی پر تھا۔ اس کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔

اس زمانے کی بگڑتی ہوئی سیاسی فضا میں توازن کو برقرار رکھنا بہت کٹھن کام تھا۔ جیسے ہماری ہمدردی جداگانہ، سوچوں میں فرق پیدا کرتی چلی گئی اور ہم ایک دوسرے کے خیالات سے دور ہوتے چلے گئے۔ کبھی اس کا احساس بھی نہیں ہوا کہ ہم مل بیٹھ کر واقعات کو دلیل کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔ آخر ہم دونوں تاریخ داں تھے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ کم از کم ہم دونوں متفق ہو جاتے اور اپنے ہی دفتر سے نفرتوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے۔ یہ ہم سے نہ ہو سکا اور ہم دونوں پڑوسی ہونے کے باوجود یکجہتی عام نہ کر سکے اور ہمارے درمیان نفرتوں کی ایک بڑی دیوار حائل رہی۔

یہ 1947ء کی بات ہے انہوں نے مجھے دعوت دی کہ ہم دونوں اکٹھے ان کے گھر میں بیٹھ کر اس وقت کے ہندوستان کے وائسرائے کی تقریر ریڈیو سے سنیں گے۔ میں ان کے گھر چلا گیا اور ہم بڑے غور سے تقریر سنتے رہے۔ جب تقریر ختم ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آخر پاکستان بن ہی گیا اس سے ان کو بڑا نقصان ہوا۔ ان کا ایک گھر لاہور کرشن نگر میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان میں رہ گیا۔ میں نے جواب دیا کہ میرے سارے رشتہ داروں کی جائیداد امرتسر میں ہے، وہ بھی یہیں دھری رہ گئی اور پھر میں نے اپنے والدین کا ذکر کیا جو بسنہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے جان بوجھ کر پوچھا میرا فیصلہ کیا ہے۔ میں کہاں رہنا پسند کروں گا۔ میں نے جواب دیا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ ہمیں آخر پاکستان میں جانا ہوگا۔ ہمیں وہیں اطمینان و سکون میسر آ سکتا ہے، ہم سکھ اور چین سے رہ سکتے ہیں۔ شام ہوگئی تھی۔ ہم ہاتھ ملا کر اپنی اپنی راہ پر ہو لیے لیکن ایسا محسوس ہوا کہ وہ ہندوستان کی طرف جارہے ہیں اور میں پاکستان کی طرف۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *