Preloader

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن 1 روپیہ 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز کا مارجن 8.64 روپے سے بڑھا کر 9.98 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا اور وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں اضافے کی تائید کردی ہے۔

اعلامیہ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز کے مارجن کی منظوری دے دی۔ وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی کے اجلاس کی صدارت کی، اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ورچوئل اجلاس وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا تھا۔

حکومتی یقین دہانی کے بعد پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہفتہ 15 اگست کو ہڑتال مؤخر کر دی۔ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ کل ملک بھر میں پٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔

لیوی

حکومت نے گزشتہ مالی سال پٹرولیم لیوی کی مد میں 99 ارب روپے اضافی وصول کیے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کو وزارت خانہ کی ملنے والی دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال 26-2025 میں 99 ارب روپے اضافی پٹرولیم لیوی وصول کی۔

دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال کے لیے لیوی کا ہدف 1468 روپے تھا جب کہ وصولی 1567 روپے رہی۔

گزشتہ مالی سال ٹیکس اور نان ٹیکس مجموعی آمدن 19773 ارب روپے رہی۔ آئی ایم ایف شرط پر پرائمری بیلنس 3634 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اخراجات میں کمی اور لیوی بڑھنے سے پرائمری بیلنس ہدف سے سرپلس ریکارڈ ہوا۔

گزشتہ مالی سال کے دوران 4763 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ریکارڈ ہوا جب کہ مجموعی طور پر 3313 ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ مقامی ذرائع سے 2135 ارب روپے قرض لیا گیا۔

گزشتہ مالی سال کے دوران ایکسٹرنل فنانسنگ کا نیٹ حجم 1113 ارب روپے رہا۔ 6947 ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوئے۔ حکومت نے مقامی قرضوں پر 6040 ارب اور بیرونی قرضوں پر 917 ارب روپے سود ادا کیا۔

گزشتہ مالی سال کے دوران صوبوں کو این ایف سی کے تحت 7668 ارب روپے جاری ہوئے جب کہ مالی سال 25-2024 میں صوبوں کو 6854 ارب روپے جاری کیے گئے تھے۔

سب سے زیادہ پنجاب کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 3370 ارب روپے جاری ہوئے۔ سندھ کو 1897 ارب، خیبر پختونخوا کو 1240 ارب اور بلوچستان کو این ایف سی کے تحت 736 ارب روپے جاری کیے گئے۔

پنجاب نے 914 ارب روپے، سندھ نے 349 ارب روپے، خیبرپختونخوا نے 164 ارب اور بلوچستان نے 20 ارب روپے کا بجٹ سر پلس دیا۔ آئندہ ماہ پانچویں اقتصادی جائزے میں آئی ایم ایف کو یہی معاشی اعشاریے دیے جائیں گے۔

گزشتہ مالی سال مرکزی بینک کا منافع 2428 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ دفاع پر 2587 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ گزشتہ مالی سال پنشن کی مد میں 1001 ارب روپے کے اخراجات ریکارڈ ہوئے۔ سبسڈیز کی مد میں 1013 ارب روپے خرچ ہوئے۔

گزشتہ مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی اخراجات 23087 ارب روپے رہے، جو جی ڈی پی کا 18.2 فیصد رہے جب کہ اس سے قبل مالی سال 25-2024 میں مجموعی اخراجات جی ڈی پی کا 21.4 فیصد ریکارڈ ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *