میئر لندن صادق خان نے اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کے لیے استعمال ہونے والی اے آئی اور نگرانی کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی امریکی ٹیک کمپنی پالنٹیئرPalantir کا میٹ پولیس کے ساتھ ہونے والا 5 کروڑ پاؤنڈ کا معاہدہ روک دیا۔
اس حوالے سے میئرصادق خان کا کہنا ہے کہ5 کروڑ پاؤنڈ کے اس معاہدے میں عوامی فنڈز کے استعمال کے قواعد کی واضح اور سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹ پولیس پلانٹیئر کے اے آئی نظام کو جرائم کی تحقیقات میں انٹیلیجنس تجزیے کو خودکار بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی۔
ترجمان میئر کے مطابق لندن کے عوام چاہتے ہیں کہ سرکاری رقم صرف ایسی کمپنیوں پر خرچ کی جائے جو شہر کی اقدار سے ہم آہنگ ہوں۔
دوسری جانب میٹ پولیس کا کہنا ہے کہ عملے کی کمی کے باوجود مؤثر طریقے سے کام جاری رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔
ادھر سٹی ہال کا اپنے جاری بیان میں کہنا تھا کہ میٹ پولیس نے خریداری کی حکمتِ عملی منظوری کے لیے متعلقہ ادارے کے سامنے پیش نہیں کی جبکہ پلانٹیئر کے برطانیہ میں چیف ایگزیکٹو لوئیس موزلی نے کہا ہے کہ سر صادق خان کے اس فیصلے سے دشمن ریاستوں اور مجرموں کو فائدہ ہوگا اور وہ عوامی تحفظ پر سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پلانٹیئر نے برطانیہ میں عوامی خدمات کے شعبے میں تیزی سے توسیع کی ہے اور نیشنل ہیلتھ سروس، وزارتِ دفاع اور دیگر اداروں کے ساتھ 600 ملین پاؤنڈ سے زائد کے معاہدے کیے ہیں۔
اس کمپنی کی بنیاد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ارب پتی حامی پیٹر تھیل نے رکھی تھی، کمپنی اسرائیلی فوج اور ٹرمپ انتظامیہ کی آئی سی ای امیگریشن کارروائیوں میں معاونت فراہم کرتی ہے۔


























Leave a Reply