کراچی کے علاقے ملیر میں نامعلوم افراد نے 20 برس کی نادیہ اور 25 سال کے نجیع اللہ کو جان سے مار دیا۔
پولیس حکام کا بتانا ہے کہ دونوں نے پسند کی شادی کی تھی جس پر نادیہ کے والد اسلم نے 19 مئی کو سچل تھانے میں اس کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا جس کے بعد پولیس نے نجیع اللہ کے والد کو گرفتار بھی کیا تھا۔
نادیہ اپنے شوہر کے ساتھ آج ملیر کی عدالت میں پیش ہوئی، دونوں نے اپنا نکاح عدالت کے سامنے رکھا جس پر نجیح اللہ کے والد کو رہائی کا پروانہ دے کر کیس نمٹادیا گیا۔
نادیہ اور نجیح اللہ خوشی خوشی کورٹ سے نکلے اور سعود آباد میں قائم نادرا آفس کی جانب جارہے تھے کہ ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی گئی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ ایک اور شخص بھی سوار تھا، فائرنگ کے دوران ڈرائیور اور دوسرا شخص گاڑی سے اتر کربھاگ گئے، ملزمان میاں بیوی کا عدالت سےہی تعاقب کررہےتھے، ملزمان نے گاڑی کی پچھلی سیٹوں پراندھا دھند فائرنگ کی، میاں بیوی نےحیدرآباد جانےکےلیےکرائےکی گاڑی بک کی تھی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس چیف آزاد خان سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم بھی دیدیا۔


























Leave a Reply