خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سوات ڈیم منصوبہ تیارہے، غیرملکی انجینئرز کے دورے کیلئے وفاق این او سی نہیں دے رہا، خیبرپختونخواسےامتیازی سلوک ہورہا ہے، اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔
پشاور میں ورلڈفوڈسیفٹی ڈے پر تقریب سے خطاب میں سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ عوام میں محفوظ خوراک سےمتعلق آگاہی وقت کی ضرورت ہے، فوڈسیفٹی اتھارٹی کے قیام سےصحت بخش خوراک کی فراہمی میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوڈ ڈپارٹمنٹ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم گندم میں خودکفیل نہیں، غذائی خود کفالت کیلئے منصوبہ بندی جاری ہے، آئندہ بجٹ میں محکمہ خوراک کا بجٹ بڑھایاجائےگا اور جدیدگودام تعمیرکیے جائیں گے، سال 2030 تک خیبرپختونخوا کئی شعبوں میں خود کفیل ہوجائےگا۔
ان کا کہنا تھاکہ پنجاب کی حکومت نےخیبرپختونخوا کوگندم کی فراہمی بند کی، بارہا خطوط کے باوجود شنوائی نہیں ہوئی، جب 17 سیٹوں والوں کو اقتدار دیاجاتا ہے تو وہ عوام کے مفاد کا نہیں سوچتے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبے کیلئے صوبائی حکومت نے 3 ارب روپےمختص کیے،وفاق نے ایک روپیہ نہیں دیا، ناردرن بائی پاس منصوبےکیلئے صوبائی حکومت نے 4 ارب روپےکی بریج فنانسنگ کی، پشاور بس ٹرمینل مکمل ہے مگر این ایچ اے راستے کیلئے این او سی جاری نہیں کررہا۔
ان کا کہنا تھاکہ سوات ڈیم منصوبہ تیارہے، غیرملکی انجینئرز کے دورے کیلئے وفاق این او سی نہیں دے رہا، خیبرپختونخواسےامتیازی سلوک ہورہا ہے، اس سے نفرتیں بڑھیں گی، آئین کے مطابق گیس پیدا کرنے والے صوبے کا اس کےاستعمال پرپہلاحق ہے، وفاقی حکومت نے کےپی کی گیس بند کر رکھی ہے، متوسط طبقہ متاثرہو رہا ہے۔


























Leave a Reply