ہوم آف کرکٹ کہلانے والے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کی پچ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ کے دوران شدید تنقید کی زد میں آ گئی۔
میچ کے پہلے دو روز میں مجموعی طور پر 33 وکٹیں گرنے، غیر متوازن باؤنس اور گیند کے بعض اوقات غیر معمولی طور پر نیچے رہنے کے باعث سابق کرکٹرز نے پچ کے معیار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ وکٹ آئی سی سی کی اسکروٹنی کا سامنا کر سکتی ہے۔
انگلش بیٹر جیکب بیتھل کیوی فاسٹ بولر میٹ ہنری کی ایک ایسی ہی گیند پر آؤٹ ہوئے جو توقع سے کہیں زیادہ نیچی رہی جس پر کمنٹیٹرز نے بھی تبصرے کیے۔
سابق آسڑیلوی ویمن کرکٹر نے کہا کہ آپ ایسی گیند پر کچھ بھی نہیں کر سکتے چوتھی اننگز میں نیوزی لینڈ کو یہ پچ پریشان کرے گی۔
دوسری جانب سابق انگلش بولر اسٹیورٹ براڈ نے کہا کہ جیکب بیتھل اس بال پر کچھ نہیں کرسکتے تھے یہ فرش پر رول کرتی گئی جب کہ مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ پچ کے باؤنس میں تسلسل کی کمی ہے اس لیے ایل بی ڈبلیو کے امکانات بڑھے۔
مائیکل ایتھرٹن نے مزید کہا کہ میرا نہیں خیال یہ ایک اچھی پچ ہے، ایم سی سی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ لارڈز کے اسکوائر میں کچھ اچھا نہیں ہے، گزشتہ برس انگلینڈ اور بھارت کے درمیان ٹیسٹ میچ اچھا تھا لیکن پچ اچھی نہیں تھی۔
سابق کپتان ناصر حسین کا کہنا تھاکہ لارڈز گراؤنڈ کا درمیانی حصہ بہت اچھا نہیں ہے اس کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پچ میں پیس کی کمی ہے باؤنس ناہموار ہے اور سیم اس وقت ہوتا جب بادل چھائے ہوں، جس طرح کی کوالٹی باؤلنگ ہے ایسی پچ پر بیٹنگ ناممکن ہے، بیٹرز کے لیے ناہموار باؤنس سے بڑھ کر بری چیز کوئی نہیں۔
میچ کی صورتحال
میچ کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو پہلے روز 16 اور دوسرے روز 17 وکٹیں گریں۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 140 رنز بنائے جو کے جواب میں کیوی ٹیم اپنی پہلے اننگز میں 113 رنز بنا کر 27 رنز کے خسارے میں چلی گئی۔
دوسری اننگز میں میزبان ٹیم 27 رنز کی برتری کے ساتھ 226 رنز بنائے اور یوں نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 254 رنز کا ہدف ملا۔ آج کھیل کے تیسرے روز نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 218 رنز درکار ہیں اور اس کے 3 وکٹ پر 36 رنز بن چکے ہیں اور اسے جیت کے لیے مزید 182 رنز درکار ہیں۔

























Leave a Reply