ظفر جس خاندان کی یادگار تھا، اس کے افراد میں علم پروری، نکتہ رسی، بالغ نظری، قدرِ علم و فضل، میراث کی حیثیت سے منتقل ہوتی چلی آ رہی تھی اور ہر چند تیموری خاندان میں کوئی زبردست شاعر یا ادیب پیدا نہیں ہوا لیکن اس کی ادب نوازی اور شاعر آفرینی کے واقعات سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ اس لئے ظفر شاعر تھا تو حیرت کی بات نہیں کیونکہ وہ اس خاندان کا فرد تھا جو اپنے ذوق ادب کے لئے مشہور ہے، اور اگر اس نے اتنا کلام چھوڑا تو بھی تعجب نہ کرنا چاہئے کیونکہ آغاز جوانی سے لے کر کہولت تک جو تقریباً تین ربع صدی کا زمانہ ہوتا ہے، اس کو سوائے اس فکر فضول کے اور کام ہی کیا تھا۔
یوں تو سلطنتِ مغلیہ کا مفہوم محمد شاہ کے وقت ہی میں ختم ہو گیا تھا لیکن اس کا انعکاسی اثر جو کچھ قائم تھا، وہ بھی اکبر شاہ ثانی (ظفر کے والد) کے زمانہ میں جاتا رہا اور جب بہادر شاہ ظفر تخت نشیں ہوا تو اس کی حیثیت ایک شطرنج کے بادشاہ کی بھی نہیں تھی بلکہ وہ صرف ایک وظیفہ یاب رئیس کی حیثیت رکھتا تھا، جس کے حدود حکمرانی کے لئے قلعہ کے تنگ فضا بھی ضرورت سے زیادہ سمجھی جاتی تھی۔
ولی عہدی کا زمانہ بھی ظفر کا خلش و بے چینی میں بسر ہوا، کیونکہ اکبر شاہ ممتاز محل کے بیٹے مرزا جہانگیر کو ولی عہد بنانا چاہتے تھے اور ان سے نا خوش رہتے تھے۔ ہر چند بعد کو حکومتِ برطانیہ نے قطعی فیصلہ بہادر شاہ ظفر کے حق میں کر دیا تھا لیکن باپ کے جیتے جی ان کو کوئی آرام و سکون نصیب نہ ہوا اور جب پورے 62 سال عمر کے اس کلفت میں بسر ہو گئے، جب کہیں جا کر 1837 میں اکبر شاہ کا انتقال ہوا اور ظفر کو تخت نشینی کا موقع ملا۔ ہر چند اس کے بعد ظفر 25 سال اور زندہ رہے لیکن وہ زندگی اس طرح کی تھی کہ دو سال تو غدر کے مصائب میں بسر ہوئے اور پانچ سال رنگون کے بلا خانہ میں۔ باقی اٹھارہ سال کا زمانہ، جس میں ظفر نے سلطنت کی، وہ بھی اس انداز سے بسر ہوا کہ جی کھول کر گناہ کرنا کیسا طاعت و بندگی کے بھی اسباب فراہم نہ ہو سکے۔
تیموری خاندان کا خون، جو جذبہ داد و دہش کے پیدا کرنے میں تاریخی اہمیت حاصل کر چکا تھا، رگوں میں دوڑ رہا تھا لیکن اس کی حالت اس فوارہ کی سی تھی جس کا خزانہ خشک اور قوت جست و خیز مفقود ہو چکی ہو۔ ظفر چاہتا تھا اور یقیناً بے تابانہ طور پر چاہتا تھا کہ وہ اپنے دربار کو شعرا اور اہل علم و کمال سے بھر لے اور ہر اس چیز کو فراہم کر لے جو مٹی ہوئی تیموری عظمت و جلال کی یاد کو زندہ کرنے والی ہو لیکن اس کی بے کسی و بے چارگی کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے استاد (ذوق) کو ایّامَ ولی عہدی میں چار روپیہ ماہوار سے زیادہ نہ دے سکا اور تخت نشین ہونے کے بعد پچیس روپیہ (یا بقول صاحبِ تذکرہ گلِ رعنا) زیادہ سے زیادہ سو روپیہ ماہوار سے زیادہ ہمت نہ کر سکا۔
الغرض ظفر کی ساری زندگی سخت ’’حوصلہ فرسا‘‘ ماحول میں بسر ہوئی اور جتنی تمنائیں اس کے دل میں پیدا ہوئیں، ان میں سے ایک بھی تکمیل کو نہ پہنچ سکی۔ اس لئے وہ جس رنگ کی شاعری کے لئے پیدا ہوا تھا اگر اس کی بھی تکمیل نہ ہو سکی ہو تو جائے تعجب نہیں۔ یہ ہم ظاہر کر چکے ہیں کہ ظفر کی شاعری کو سوز و گداز کی شاعری سمجھا جاتا ہے لیکن اس کا فطری رنگ کیا تھا؟ اس بات میں مجھے اکثر تذکرہ نویسوں سے اختلاف ہے۔ عام طور پر ظفر کی شاعری کو سوز و گداز کی شاعری سمجھا جاتا ہے لیکن میں اس کو یکسر اس صفت سے خالی پاتا ہوں۔
میرے نزدیک ظفر پیدا ہوا تھا صرف جرأت کے رنگ کی مادّی شاعری کرنے کے لئے اور اگر زمانہ مخالفت نہ کرتا تو وہ اس رنگ کا بے مثل شاعر ہوتا لیکن عسرت و افلاس کی مصیبت، زوال و ادبار کی نحوست، تاثرات غم و الم کی کلفت نے اس کو اس قدر مکدر بنا دیا تھا کہ اس کی زندگی کا لاعبانہ پہلو، جس پر اس کی شاعری کی بنیاد قائم ہوئی تھی، شگفتہ ہونے سے قبل ہی مضمحل ہو گیا اور اس کے کلام میں وہ رنگ پیدا ہو گیا جسے ہم سوز و گداز کے بجائے صرف افسردگی و سوگواری کہہ سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ خود ایک جگہ لکھتا ہے۔
شعرِ افسردہ ظفر مت سناؤ بزم میں
عشق کے مارے ہوئے جتنے ہیں افسردہ سے ہیں
میرے نزدیک سوز و گداز، افسردگی سے بالکل علاحدہ چیز ہے۔ سوز و گداز کا تعلق تاثرات روحانی کی اس بلند دنیا سے ہے جسے مادّیات سے کوئی واسطہ نہیں اور اگر ہوتا بھی ہے تو صرف اس قدر کہ اس کو ذریعۂ اظہارِ تاثر سمجھا جائے۔ سوز و گداز اور افسردگی دونوں کے ارتقا کا لازمی نتیجہ سکون ہے لیکن فرق یہ ہے کہ اس میں سکونِ استغنا ہوتا ہے اور اس میں سکونِ یاس۔ اس میں روح و روحانیت کو ترقی ہوتی ہے اور یہ دماغ و اعضا میں تعطل پیدا کر دیتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ظفر جمالیاتی نقطۂ نظر سے کچھ نہ کچھ ذوق ضرور رکھتا تھا اور اس لئے فنون لطیفہ میں سے شاعری کے علاوہ موسیقی اور خطاطی سے بھی اسے لگاؤ تھا لیکن چونکہ اس کا یہ ذوق بلند قسم کا نہ تھا، اس لئے وہ نہ موسیقی و خطاطی میں کوئی قابل ذکر یادگار چھوڑ گیا نہ شاعری میں، لیکن اگر حالات مساعد ہوتے تو ممکن تھا کہ اس کا فطری ذوق جیسا کچھ بھی تھا، پوری وسعت کے ساتھ ظاہر ہوتا اور تکمیل کی ایک صورت پیدا ہو جاتی۔ ظفر کی شاعری میں تھوڑا سا جو متشائم (Pessimistie) رنگ پایا جاتا ہے، اس کا سبب یہ نہ تھا کہ اس کی فطرت ایسی ہی تھی بلکہ وہ اثر تھا صرف اسباب و حالات کا، اس وقت کی فضا و ماحول کا۔ اگر یہ عارضی اسباب پیدا نہ ہو جاتے تو اس کے دیوان میں جو کہیں کہیں افسردہ و سوگوار قسم کے شعر مرثیہ کا رنگ لئے ہوئے نظر آ جاتے ہیں، بالکل نہ ہوتے۔
پھر چونکہ سوز و گداز کا تعلق متشائم جذبات نہیں بلکہ اس عقلی و ذہنی ارتفاع (Intellectual sublimity) سے ہے جس کی بنیاد بالکل جمالیات اخلاقی (Ethical Aesthitics) پر قائم ہے اس لئے وہ صرف ایک غموض روحانی (Spritual Profundity) ہے اور جس کی تصوری منزل Utopia اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک انسان بیک وقت زبردست فلاسفر، بے مثل آرٹسٹ اور روحانی قسم کا لطیف اخلاق نہ رکھتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صفات ظفر میں موجود نہ تھے اور اس لئے ان کے یہاں سوز و گداز کا پتہ نہیں۔ ظفر اسی مادّی دنیا اور مادّی جذبات کا شاعر تھا، اس لئے ہم کو انہیں حدود میں رہ کر اس کی شاعری پر تبصرہ کرنا چاہئے۔
(1) ظفر کی شاعری عام فہم، محاورہ و زبان کی شاعری تھی۔
(2) ظفر کے کلام میں سوز و گداز نہیں بلکہ حالات و واقعات کے لحاظ سے افسردگی و سوگواری ضرور پائی جاتی ہے۔
(3) ان کے کلام میں جرأت کی سی عریانی، یا ادنٰی قسم کے معاملاتِ عشق و محاکاتِ محبت نظر آتے ہیں اور زیادہ دلکش طور پر۔
(4) سنگلاخ اور مشکل زمینیں نکالنے میں وہ شاہ نصیر سے زیادہ کامیاب و قابل تعریف تھے۔
(5) رعایات لفظی کی وجہ سے جو آورد و صنعت شعر میں پیدا ہو جاتی ہے وہ بھی ان کے یہاں کم نہیں ہے۔
(6) فارسی ترکیبیں کبھی استعمال نہ کرتے تھے اور نہ اس زبان کی حلاوت سے وہ آشنا تھے۔
(7) لیکن باوجود اس کے اگر ان کے مجموعۂ کلام کا استقصا کیا جائے تو ایسے شعر بھی نکلیں گے جو واردات محبت کے بیان کے لحاظ سے بہت دلکش ہیں۔
(علم و ادب کی دنیا کی ممتاز شخصیت، مدیر اور کئی کتابوں کے مصنّف نیاز فتح پوری کے ایک مضمون سے اقتباس)
