Preloader

علم کے معنی ہیں جاننا اور پہچاننا اور یہ وہ عمل ہے جس کی ابتداء انسان کے تعلق سے خود اس کے خالق و مالک نے کی ہے۔

حضرت آدم کی تخلیق کے بعد اللہ تعالی نے انہیں وہ سب کچھ بتایا جو وہ نہیں جانتے تھے۔ قرآن میں کہا گیا ہے، “علم الانسان ما لم يعلم۔” گویا حضرت آدم کی تخلیق کے بعد اللہ تعالی نے جو بات سب سے زیادہ ضروری سمجھی وہ انہیں سب کچھ بتانا تھا جو وہ نہیں جانتے تھے۔ علم کے ذریعے انسان خود کو بھی پہچانتا ہے۔ اس کائنات کو بھی سجھتا ہے۔ اس کائنات کے بنانے والے کے بارے میں واقفیت حاصل کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس پر یہ حقیقت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اس وسیع و عریض کائنات میں اس کی حیثیت کیا ہے؟ اور یہی وہ حقیقت ہے جس کا ادراک انسان کے اندر عبودیت کے جذبے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اسے اپنے بنانے والے کا شکر گزار بھی ہوتا چاہیے اور اس کے احکام پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ یہ جذبہ جو علم کی دین ہے۔ یہ یقین علم کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اسے فروغ دینے کا نام ہی تعلیم ہے۔

اللہ تعالی نے انسان کو عقل و فہم اور تمیز کی خوبیوں سے نوازا ہے۔ انسان اور حیوان میں بنیادی فرق یہی ہے کہ انسان عقل اور فہم سے کام لے کر اپنی زندگی بہتر راستے پر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب کہ حیوان اس صفت سے محروم ہیں۔ اللہ تعالی نے انسان کو عقل بھی دی اور ساتھ ہی ساتھ اسے صحیح راستے پر چلنے کی دعوت دینے والے پیغمبر بھی بھیجے۔ یہ سلسلہ آخری پیغمبر آقائے نامدار حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔ یہ سارے پیغمبر انسانوں کو یہ تعلیم سارے دیتے رہے کہ کس راستے پر چل کر آخرت میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یا کس راستے پر چلنے سے اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوگی اور کسی راستے پر چلنے کے نتیجے میں اس کے غیض و غضب کا شکار ہونا پڑے گا۔ جتنے بھی پیغمبر آئے ان کا کام صرف اور صرف یہی تھا کہ وہ انسانوں کو اچھے عمل کی تلقین کریں۔ ان میں برے اور اچھے کی تمیز پیدا کریں۔ اور اس بات کی تعلیم دیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ جو کام پیغمبر کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے اسے کرنا عبادت ہی ہو سکتا ہے۔ تعلیم کو اس پس منظر میں عبادت کہا جائے تو اس پر ظاہر ہے کوئی اعتراض نہیں کرسکتا۔

اللہ تعالی نے نہ صرف انسان کی رہنمائی کے لئے پیغمبر اور آسمانی کتابیں بھیجیں بلکہ انسان کے اندر یہ صلاحیت بھی پیدا کر دی کہ وہ کائنات کے راز دریافت کر سکے۔ اور وہ ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھا سکیں جو زمین کے اوپر اور زمین کی نیچے اور سمندوں کی تہ میں پائی جاتی ہے۔ اس نے طرح طرح کے معدنیات کے ذخیرے زمین میں پوشیدہ کر دیے۔ زمین کے کچھ حصوں کو پیڑوں پر سے بھر دیا۔ یہ سارے خزانے انسان اور صرف انسان کے لئے ہیں۔ ان تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کو ان کا علم بھی ہو اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ انہیں کسی طرح استعمال کے لائق بنایا جا سکتا ہے؟ اور یہ کہ ان کے استعمال کے زیادہ سے زیادہ امکانات کسی طرح دریافت کئے جا سکتے ہیں؟ یہ ساری چیزیں اس صورت میں ہی ممکن ہو سکتی ہیں جب ان کے بارے میں جاننے کی شعوری کوشش کی جائے۔ اس کوشش کو ہم علم اور سیکھنے کے عمل کو تعلیم کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔ انسانی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے اللہ تعالی کی دی گئی نعمتوں کے حصول و استعمال کی کوشش کو ظاہر ہے اچھا کام ہی کہا جائے گا اور ہر وہ اچھا کام جو بہتر نتائج کا حامل ہو اسے عبادت کہنا غلط نہیں۔

(کہکشاں خاں کے قلم سے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *