آدھے سر کے درد یا مائیگرین کا سامنا ایک تخمینے کے مطابق لگ بھگ 20 فیصد افراد کو ہوتا ہے۔
سردرد کے نتیجے میں روزمرہ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں، مائیگرین کا تو ابھی کوئی علاج بھی موجود نہیں۔
اب اس عام مسئلے سے لاحق ہونے والے ایک سنگین مرض کے خطرے انکشاف ہوا ہے۔
جرنل برین کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ مائیگرین سے دماغی عمر بڑھنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور دماغ میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو لمبے عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔
اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں مائیگرین اور دماغی تنزلی کے درمیان ایک تعلق کو دریافت کیا گیا تھا۔
اس نئی تحقیق میں دیکھا گیا کہ آدھے سر کے درد سے دماغی عمر پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یعنی جسمانی عمر سے ہٹ کر ان کے دماغ کی عمر کیا ہوتی ہے۔
دماغ اور جسم کی عمر کے درمیان فرق سے ڈیمینشیا اور دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں مائیگرین کے 110 مریض اور 70 ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کو آدھے سر کے درد کا سامنا نہیں تھا۔
ان افراد کے ایم آر آئی اسکینز کیے گئے اور ان کے 400 سے زائد دماغی خطوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ایک کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے ان افراد کی دماغی عمر کا تخمینہ لگایا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ مائیگرین کے مریضوں کے جسم اور دماغ کی عمر میں اوسطاً 4.24 سال کا فرق ہوتا ہے جو کہ دوسرے گروپ کے افراد میں نظر نہیں آیا۔
مائیگرین کے دائمی مریضوں (ایسے افراد جن کو ہر ماہ 15 دن یا اس سے زائد وقت تک سر درد کا سامنا ہوتا ہے) میں یہ فرق زیادہ ہوتا ہے۔
442 دماغی خطوں کے تجزیے کے دوران 66 خطوں میں عمر تیزی سے بڑھنے کی علامات کو دریافت کیا گیا۔
ان خطوں میں درد کو پراسیس، جذبات کنٹرول کرنے اور ادراک سے جڑے خطے بھی شامل تھے۔
محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کسی حد تک محدود ہیں کیونکہ یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ مائیگرین سے واقعی دماغی عمر میں اضافہ ہوتا ہے یا کوئی اور وجہ بھی ہے۔
مگر ان کا کہنا تھا کہ مائیگرین کے دورے کے دوران دماغ کے اندر متعدد تبدیلیاں آتی ہیں جبکہ نیند، تناؤ، ورم اور جسم کے دیگر افعال بھی متاثر ہوتے ہیں اور اگر کسی فرد کو برسوں تک آدھے سر کے درد کا سامنا ہوتا ہے تو دماغی عمر میں اضافہ حیران کن نہیں۔

























Leave a Reply