Preloader

اردو شاعری میں جدیدیت کی داغ بیل ڈالنے اور روایت کو توڑنے والے میرا جی کے ہم عصروں اور اس عہد کے نقادوں کو بھی میرا جی کی شاعری میں ابہام نظر آیا۔ بعض نے یہ تک کہہ دیا کہ ان کی نظم ایک معمّے کے سوا کچھ نہیں، اور چھوٹے بڑے مصرع پڑھنے سے زیادہ دیکھنے میں بَھلے لگتے ہیں۔

شاید اس میں میرا جی کی اُس شخصیت کا دخل رہا ہو جو ان کی بعض ناقابلِ بیان عادات، عجیب و غریب وضع قطع اور کچھ باتوں کی وجہ سے بن گئی تھی۔ ان پر جنسی کج روی، بے راہ روی کا الزام تو لگا ہی مگر بعض ادبی تذکروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے دور کا یہ مشہور شاعر اور نثر نگار ایسی مریضانہ شخصیت کا مالک تھا جو کسی کے لیے بھی ناقابلِ‌ قبول ہوسکتی ہے۔ شاہد احمد دہلوی نے میرا جی سے متعلق یادوں اور شخصی خاکوں میں اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ یہ پارہ بھی ان کی کتاب سے لیا گیا ہے جو میرا جی کی مریضانہ حالت کو بیان کرتا ہے۔ شاہد صاحب لکھتے ہیں:

ایک دن ریڈیو اسٹیشن پر میرا جی کو دیکھا کہ جگہ جگہ سے اُن کا منہ سوجا ہوا ہے اور سارے چہرے پر زخم اور نُہٹّے لگے ہوئے ہیں۔ میں نے گھبرا کر پوچھا، “میرا جی کیا کہیں گر پڑے؟

بولے نہیں، مجھے مارا ہے!

آپ کو کیوں مارا؟ آپ تو لڑنا جانتے ہی نہیں۔

کہنے لگے، مجھے سوتے میں مارا ہے اس نے!

کس نے؟

میرا شبہ ہے ایک آدمی پر۔

اور آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ اس بیہوش آدمی کو کس ملعون نے مارا تھا۔ میرا جی کو زیادہ جاننے والوں میں سے بعض یہ بھی کہتے تھے کہ اس نے خود نشے میں‌ اپنے آپ کو مارا ہے۔

میرا جی پُراسراریت اور حیرت کے قائل تھے۔ ان کی شخصیت بھی ان کی شاعری کی طرح پُراسرار تھی۔ وضع قطع، لباس اور باتوں سے تو وہ پراسرار نظر ہی آتے تھے، وہ حرکتیں بھی کچھ ایسی کرتے تھے کہ لوگ انھیں حیرت سے دیکھیں۔ مثلًا ایک زمانے میں مرغی کے انڈے کے وزن کے برابر لوہے کا گولا ہاتھ میں ہر وقت رکھتے تھے۔ اور کوئی پوچھتا تھا کہ یہ کیا ہے تو کچھ نہ بتاتے تھے۔ پھر ایک کے دو گولے ہو گئے تھے اور یہ خاصہ ڈیڑھ پاؤ کا بوجھ خواہ مخواہ اُٹھائے پھرتے تھے۔ اس کے بعد ان گولوں پر سگریٹ کی پنّی چڑھائی جاتی تھی۔ لکھنؤ میں جب میں نے انھیں آخری بار راشد صاحب کے ہاں دیکھا تو گولے ان کے پاس نہیں تھے۔ کھانے میں میٹھا اور نمکین ملا کر کھاتے تھے اور دیکھنے والے چہ میگوئیاں کرتے تھے۔ بعض جو انھیں جانتے تھے باؤلا کہتے تھے۔ منٹو انھیں فراڈ کہتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *