ایریزونا : بڑے سائز کے قد آور کتے چھوٹی نسل کے کتوں کے مقابلے میں جلدی بوڑھے ہوتے ہیں اور ان کی عمر بھی کم ہوتی ہے، نئی تحقیق نے اس کی سائنسی وجہ دریافت کرلی۔
محققین کے مطابق بڑے کتوں کے جسم میں عمر بڑھنے کے ساتھ ڈی این اے میں ہونے والی بعض تبدیلیاں نسبتاً تیزی سے رونما ہوتی ہیں، جو ان کی مختصر عمر کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق کتوں کی مختلف نسلوں میں جسمانی حجم اور عمر کے درمیان تعلق انتہائی واضح ہے، گریٹ ڈین جیسے بڑے کتے عموماً چھوٹے کتوں کے مقابلے میں کم عمر پاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ممالیہ جانوروں کی مختلف انواع کا موازنہ کیا جائے تو اس کے برعکس رجحان نظر آتا ہے، یعنی ہاتھی جیسے بڑے جانور چوہوں جیسے چھوٹے جانوروں سے کہیں زیادہ عمر پاتے ہیں۔
ڈی این اے میں تبدیلیاں
محققین کا کہنا ہے کہ اس فرق کو سمجھنے کے لیے انہوں نے کتوں کے ڈی این اے میں عمر کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔
ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے اسکول آف لائف سائنسز اور سینٹر فار ایوولوشن اینڈ میڈیسن سے وابستہ پروفیسر نوح سنائیڈر میکلر اور ان کے ساتھیوں نے کتوں کے خون میں ڈی این اے میتھائلیشن کا مطالعہ کیا۔
ڈی این اے میتھائلیشن کیمیائی تبدیلیوں کا ایک عمل ہے جو یہ کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتا ہے کہ جینز میں سے کون سے فعال ہوں اور کون سے غیر فعال رہیں۔
محققین نے ان تبدیلیوں میں عمر سے متعلق مخصوص پیٹرن کی بنیاد پر ایک ’ایپی جینیٹک کلاک‘ تیار کی، جو کتے کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے میں کامیاب رہی۔
مذکورہ تحقیق میں مختلف نسل کے 894 پالتو کتوں کے خون کے 1 ہزار 640 ڈی این اے میتھائلیشن پروفائلز کا تجزیہ کیا گیا۔ جن کے نتائج سے یہ معلوم ہوا کہ بڑے جسامت والے کتوں میں عمر بڑھنے کا عمل نسبتاً تیز تھا جبکہ نر کتوں میں بھی بڑھاپے کے آثار کچھ تیز دکھائی دیے۔
بڑے کتوں کے ڈی این اے میں کیا ہوتا ہے؟
تحقیق کے مطابق بڑے کتوں میں ڈی این اے کے ان حصوں میں عمر کے ساتھ میتھائلیشن تیزی سے کم ہوتی دکھائی دی جہاں عام طور پر ’جمپنگ جینز‘ کو غیر فعال رکھنے کا کام ہوتا ہے۔
جمپنگ جینز، جنہیں سائنسی زبان میں ٹرانسپوز ایبل ایلیمنٹس کہا جاتا ہے، ڈی این اے کے اندر اپنی نقول بنا کر جینیاتی مواد کے مختلف مقامات پر منتقل ہوسکتے ہیں۔ ان میں لائن ون نامی عناصر بھی شامل ہیں۔
FOLLOW US ON ARY TUBE
پروفیسر سنائیڈر میکلر کے مطابق یہ نتائج اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ بڑے کتوں کی مختصر عمر محض اس وجہ سے نہیں کہ انہیں بڑھاپے میں بیماریاں جلد لاحق ہوجاتی ہیں، بلکہ ان کے جسم میں عمر بڑھنے کا عمل ہی نسبتاً تیز رفتار ہوسکتا ہے۔
نر اور مادہ کتوں میں بھی فرق
تحقیق میں کتوں کی جنس کے حوالے سے بھی نمایاں فرق سامنے آیا، جو زیادہ تر ایکس کروموسوم پر دیکھا گیا، مادہ کتوں میں ایکس کروموسوم کی دو نقول جبکہ نر کتوں میں ایک نقل ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ نر کتوں میں لائن ون عناصر پر میتھائلیشن کی سطح زیادہ دیکھی گئی۔
کیا کتوں کی کم عمر انسانوں کی وجہ سے ہے؟
محققین کے مطابق بڑے کتوں کی کم عمری کا تعلق ممکنہ طور پر مصنوعی انتخاب اور نسلوں کی افزائش سے بھی ہوسکتا ہے۔ انسانوں نے صدیوں کے دوران کتوں کو مخصوص کاموں کے لیے منتخب کرکے ان کی افزائش کی، جس کے نتیجے میں بعض نسلوں میں تیزی سے بڑھنے اور بہت بڑے جسمانی حجم کی خصوصیات پیدا ہوئیں۔
سائنسدانوں کے مطابق اگر مستقبل میں سالماتی بڑھاپے کے عمل کو سست کرنے کے طریقے دریافت کیے جاسکیں تو ممکن ہے کہ بڑے کتوں کی صحت مند زندگی کی مدت میں کچھ اضافہ کیا جاسکے۔
پالتو کتے کیا آنے والی مصیبت کو بھانپ لیتے ہیں؟ حیران کن حقیقت
