کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ایم ڈی کیٹ امتحان کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے نظام تعلیم تباہ کردیا، شفافیت کے لیے سوالیہ پرچہ طلبہ کو واپس کیا جانا چاہیے۔
ایم ڈی کیٹ 2026 کے نتائج اور انتظامات کے معاملے پر منعم ظفر خان نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کو خط لکھ کر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں انہوں نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج اور امتحانی طریقہ کار پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 100 کامیاب امیدواروں کا کسی غیر جانبدار ادارے کے ذریعے دوبارہ ٹیسٹ لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس امتحان میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے متعدد بنیادی اقدامات ضروری ہیں، جن میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ امیدواروں سے امتحان کے بعد سوالیہ پرچہ واپس لے لیا گیا، حالانکہ ماضی میں طلبہ کو سوالیہ پرچہ اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت ہوتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ امیدواروں کو سوالیہ پرچہ ہی فراہم نہیں کیا گیا، 180ایم سی کیوز پر مشتمل امتحان میں کسی طالب علم کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ تمام سوالات اور اپنے دیے گئے جوابات ذہن میں محفوظ رکھ سکے۔
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ شفافیت کے لیے سوالیہ پرچہ طلبہ کو واپس کیا جانا چاہیے تھا، یا کم از کم امتحان کے فوراً بعد اسے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا جاتا تاکہ طلبہ اپنے جوابات کی جانچ کرسکتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ابتدائی طور پر ایم ڈی کیٹ کے پہلے 100 کامیاب امیدواروں کا دوبارہ ٹیسٹ کسی تیسرے اور غیر جانب دار ادارے کے ذریعے لیا جائے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے امتحانی مراکز کے انتخاب پر بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ آئندہ کراچی جیسے بڑے شہر میں امتحانی مراکز قائم کرتے وقت شہر کی مکمل آبادی اور جغرافیائی پھیلاؤ کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
FOLLOW US ON ARY TUBE
انہوں نے ایم ڈی کیٹ کی فیس پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فی امیدوار 9 ہزار روپے فیس وصول کی گئی، جبکہ تاخیر سے فیس جمع کرانے والے امیدواروں سے 13 ہزار روپے لیے گئے۔
ان کے مطابق مجموعی طور پر امتحانی فیس کی مد میں ایک ارب 26 کروڑ روپے سے زائد رقم جمع ہوئی، تاہم اس کے مقابلے میں امیدواروں کو امتحانی مراکز پر مناسب سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ امتحان سے تقریباً 10 روز قبل 10 ستمبر کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ویب سائٹ پر سوالیہ پرچہ واپس لینے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد یہ نوٹیفکیشن ہٹا دیا گیا اور سوالیہ پرچے سے متعلق ذمہ داری ٹیسٹنگ اتھارٹی پر ڈال دی گئی۔
کراچی کے طلبہ ایم ڈی کیٹ نتائج سے غیر مطمئن، اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم
