اگر آپ الٹرا پراسیس غذاؤں کو کھانا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت معدے کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں ان غذاؤں کے استعمال سے صحت پر مرتب ہونے والے ایک اور منفی اثر کا انکشاف کیا گیا ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال آنتوں کی سوزش کے مرض آئی بی ڈی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ سوا لاکھ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
ڈیٹا میں دیکھا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال اور آئی بی ڈی سے متاثر ہونے کے خطرے میں تعلق موجود ہے یا نہیں۔
اس مقصد کے لیے ان افراد سے سوالنامے بھروائے گئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کتنی مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال سے آئی بی ڈی سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مختلف عناصر کو مدنظر رکھنے پر دریافت ہوا کہ جتنی زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کیا جائے گا، آئی بی ڈی سے متاثر ہونے کا خطرہ اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔
محققین کے مطابق آئی بی ڈی جیسے مرض کا خطرہ بڑھانے والے غذائی عناصر جیسے الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال کی شناخت سے ایسی غذائی سفارشات کو مرتب کرنے میں مدد ملے گی جو دنیا بھر میں آنتوں کے اس عام مرض کی روک تھام میں مددگار ثاہت ہوسکتی ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل American Journal of Gastroenterology میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply